مسئلہ ۱۲: کسی پر دَین قوی یا متوسط ہے اور قرض خواہ کا انتقال ہوگیا تو مرتے وقت اس دَین کی زکاۃ کی وصیّت ضرور نہیں کہ اس کی زکاۃ واجب الادا تھی ہی نہیں اور وارث پر زکاۃ اس وقت ہوگی جب مُورث کی موت کو ایک سال گزر جائے اور چالیس درم دَین قوی میں اور دو سو درم دَین متوسط میں وصول ہو جائیں۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۳: سال تمام کے بعد دائن نے دَین معاف کر دیا یا سال تمام سے پہلے مالِ زکاۃ ہبہ کر دیا تو زکاۃ ساقط ہوگئی۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: عورت نے مہر کا روپیہ وصول کر لیا سال گزرنے کے بعد شوہر نے قبل دخول طلاق دے دی تو نصف مہر واپس کرنا ہوگا اور زکاۃ پورے کی واجب ہے اور شوہر پر واپسی کے بعد سے سال کا اعتبار ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: ایک شخص نے یہ اقرار کیا کہ فلاں کا مجھ پر دَین ہے اور اُسے دے بھی دیا پھر سال بھر بعد دونوں نے کہا دَین نہ تھا تو کسی پر زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ (4) (عالمگیری) مگر ظاہر یہ ہے کہ یہ اس صورت میں ہے جب کہ اُس کے خیال میں دَین ہو، ورنہ اگر محض زکاۃ ساقط کرنے کے لیے یہ حیلہ کیا تو عنداﷲ مواخذہ کا مستحق ہے۔
مسئلہ ۱۶: مالِ تجارت میں سال گزرنے پر جوقیمت ہوگی اس کا اعتبار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ شروع سال میں اس کی قیمت دو سو درم سے کم نہ ہو اور اگر مختلف قسم کے اسباب ہوں تو سب کی قیمتوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولے چاندی یا ساڑھے سات تولے سونے کی قدر ہو۔ (5) (عالمگیری) یعنی جب کہ اس کے پاس یہی مال ہو اور اگر اس کے پاس سونا چاندی اس کے علاوہ ہو تو اسے ملا لیں گے۔
مسئلہ ۱۷: غلّہ یا کوئی مالِ تجارت سال تمام پر دو سو درم کا ہے پھر نرخ بڑھ گھٹ گیا تو اگر اسی میں سے زکاۃ دینا چاہیں تو جتنا اس دن تھا اس کا چالیسواں حصہ دے دیں اور اگر اس قیمت کی کوئی اور چیز دینا چاہیں تو وہ قیمت لی جائے جو سال تمام کے دن تھی اور اگر وہ چیز سال تمام کے دن تر تھی اب خشک ہوگئی، جب بھی وہی قیمت لگائیں جو اس دن تھی ا ور اگر اس روز خشک تھی، اب بھیگ گئی تو آج کی قیمت لگائیں۔ (6) (عالمگیری)