صورت میں نصاب ہو جاتی ہے تو اختیار ہے جو چاہیں کریں مگر جب کہ ایک صورت میں نصاب پر پانچواں حصہ بڑھ جاتا ہے تو جس میں پانچواں حصہ بڑھ جائے وہی کرنا واجب ہے، مثلاً سوا چھبیس ۲۶ تولے چاندی ہے اور پونے چار تولے سونا، اگر پونے چار تولے سونے کی چاندی سوا چھبیس تولے آتی ہے اور سوا چھبیس تولے چاندی کا پونے چار تولے سونا آتا ہے تو سونے کو چاندی یا چاندی کو سونا جو چاہیں تصور کریں اور اگر پونے چار تولے سونے کے بدلے ۳۷ تولے چاندی آتی ہے اور سوا چھبیس تولے چاندی کا پونے چار تولے سونا نہیں ملتا تو واجب ہے کہ سونے کو چاندی قرار دیں کہ اس صورت میں نصاب ہو جاتی ہے، بلکہ پانچواں حصہ زیادہ ہوتا ہے اور اُس صورت میں نصاب بھی پوری نہیں ہوتی۔ یو ہیں اگر ہر ایک نصاب سے کچھ زیادہ ہے تو اگر زیادتی نصاب کا پانچواں ہے تو اس کی بھی زکاۃ دیں اور اگر ہر ایک میں زیادتی پانچواں حصہ نصاب سے کم ہے تو دونوں ملائیں، اگر مل کر بھی کسی کی نصاب کا پانچواں حصہ نہیں ہوتا تو اس زیادتی پر کچھ نہیں اور اگر دونوں میں نصاب یا نصاب کا پانچواں حصہ ہو تو اختیار ہے، مگر جب کہ ایک میں نصاب ہو اور دوسرے میں پانچواں حصہ تو وہ کریں جس میں نصاب ہو اور اگر ایک میں نصاب یا پانچواں حصہ ہوتا ہے اور دوسرے میں نہیں تو وہی کرنا واجب ہے، جس سے نصاب ہو یا نصاب کا پانچواں حصہ۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۹: پیسے جب رائج ہوں اور دو سو ۲۰۰ درم چاندی (2) یا بیس مثقال سونے (3) کی قیمت کے ہوں تو ان کی زکاۃ واجب ہے (4)، اگرچہ تجارت کے لیے نہ ہوں اور اگر چلن اُٹھ گیا ہو تو جب تک تجارت کے لیے نہ ہوں زکاۃ واجب نہیں۔ (فتاویٰ قاری الہدایہ) نوٹ کی زکاۃ بھی واجب ہے، جب تک ان کا رواج اورچلن ہو کہ یہ بھی ثمنِ اصطلاحی (5) ہیں اور پیسوں کے حکم میں ہیں۔
مسئلہ ۱۰: جو مال کسی پر دَین (6) ہو، اس کی زکاۃ کب واجب ہوتی ہے اور ادا کب اس میں تین صورتیں ہیں۔ اگر دَین قوی ہو، جیسے قرض جسے عرف میں دستگرداں کہتے ہیں اور مالِ تجارت کا ثمن مثلاً کوئی مال اُس نے بہ نیتِ تجارت خریدا، اُسے کسی کے ہاتھ اُدھار بیچ ڈالا یا مالِ تجارت کا کرایہ مثلاً کوئی مکان یا زمین بہ نیّت تجارت خریدی، اُسے کسی کو سکونت یا زراعت کے