کی واجب ہے یعنی ۲ ماشہ۔ یو ہیں چاندی اگر ۶۳ تولہ سے ایک رتی بھی کم ہے تو زکاۃ وہی ۵۲ تولہ ۶ ماشہ کی ایک تولہ ۳ ماشہ ۶ رتی واجب۔ یو ہیں پانچویں حصہ کے بعد جو زیادتی ہے، اگر وہ بھی پانچواں حصہ ہے تو اُس کا چالیسواں حصہ واجب ورنہ معاف وعلیٰ ہذا القیاس۔ مال تجارت کا بھی یہی حکم ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۶: اگر سونے چاندی میں کھوٹ ہو اور غالب سونا چاندی ہے تو سونا چاندی قرار دیں اور کل پر زکاۃ واجب ہے۔ یو ہیں اگر کھوٹ سونے چاندی کے برابر ہو تو زکاۃ واجب اور اگر کھوٹ غالب ہو تو سونا چاندی نہیں پھر اس کی چند صورتیں ہیں۔ اگر اس میں سونا چاندی اتنی مقدار میں ہو کہ جُدا کریں تو نصاب کو پہنچ جائے یا وہ نصاب کو نہیں پہنچتا مگر اس کے پاس اور مال ہے کہ اس سے مل کر نصاب ہو جائے گی یا وہ ثمن میں چلتا ہے اور اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہے تو ان سب صورتوں میں زکاۃ واجب ہے اور اگر ان صورتوں میں کوئی نہ ہو تو اس میں اگر تجارت کی نیّت ہو تو بشرائط تجارت اُسے مالِ تجارت قرار دیں اور اس کی قیمت نصاب کی قدر ہو، خود یا اوروں کے ساتھ مل کر تو زکاۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۷: سونے چاندی کو باہم خلط کر دیا تو اگر سونا غالب ہو، سونا سمجھا جائے اور دونوں برابر ہوں اور سونا بقدرِ نصاب ہے، تنہا یا چاندی کے ساتھ مل کر جب بھی سونا سمجھا جائے اور چاندی غالب ہو تو چاندی ہے، نصاب کو پہنچے تو چاندی کی زکاۃ دی جائے مگر جب کہ اس میں جتنا سونا ہے وہ چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے تو اب بھی کُل سونا ہی قرار دیں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: کسی کے پاس سونا بھی ہے اور چاندی بھی اور دونوں کی کامل نصابیں تو یہ ضرور نہیں کہ سونے کو چاندی یا چاندی کو سونا قرار دے کر زکاۃ ادا کرے، بلکہ ہر ایک کی زکاۃ علیحدہ علیحدہ واجب ہے۔ ہاں زکاۃ دینے والا اگر صرف ایک چیز سے دونوں نصابوں کی زکاۃ ادا کرے تو اسے اختیار ہے، مگر اس صورت میں یہ واجب ہوگا کہ قیمت وہ لگائے جس میں فقیروں کا زیادہ نفع ہے مثلاً ہندوستان میں روپے کا چلن بہ نسبت اشرفیوں کے زیادہ ہے تو سونے کی قیمت چاندی سے لگا کر چاندی زکاۃ میں دے اور اگر دونوں میں سے کوئی بقدر نصاب نہیں تو سونے کی قیمت کی چاندی یا چاندی کی قیمت کا سونا فرض کر کے ملائیں پھر اگر ملانے پر بھی نصاب نہیں ہوتی تو کچھ نہیں اور اگر سونے کی قیمت کی چاندی چاندی میں ملائیں تو نصاب ہو جاتی ہے اور چاندی کی قیمت کا سونا سونے میں ملائیں تو نہیں ہوتی یا بالعکس تو واجب ہے کہ جس میں نصاب پوری ہو وہ کریں اور اگر دونوں