بھر بھی نہ ہو۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سونا چاندی جب کہ بقدر نصاب ہوں تو ان کی زکاۃ چالیسواں حصہ ہے، خواہ وہ ویسے ہی ہوں یا اُن کے سکّے جیسے روپے اشرفیاں یا ان کی کوئی چیز بنی ہوئی خواہ اس کا استعمال جائز ہو جیسے عورت کے لیے زیور، مرد کے لیے چاندی کی ایک نگ کی ایک انگوٹھی ساڑھے چار ماشے سے کم کی یا سونے چاندی کے بلا زنجیر کے بٹن یا استعمال ناجائز ہو جیسے چاندی سونے کے برتن، گھڑی، سُرمہ دانی، سلائی کہ ان کا استعمال مرد و عورت سب کے لیے حرام ہے یا مرد کے لیے سونے چاندی کا چھلّا یا زیور یا سونے کی انگوٹھی یا ساڑھے چار ماشے سے زیادہ چاندی کی انگوٹھی یا چند انگوٹھیاں یا کئی نگ کی ایک انگوٹھی، غرض جو کچھ ہو زکاۃ سب کی واجب ہے، مثلاً ۷ ــــ ۱ ۲ تولہ سونا ہے تو دو ماشہ زکاۃ واجب ہے یا ۵۲ تولہ ۶ ماشہ چاندی ہے تو ایک تولہ ۳ ماشہ ۶ رتی۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: سونے چاندی کے علاوہ تجارت کی کوئی چیز ہو، جس کی قیمت سونے چاندی کی نصاب کو پہنچے تو اس پر بھی زکاۃ واجب ہے یعنی قیمت کا چالیسواں ۴۰ حصہ اور اگر اسباب کی قیمت تو نصاب کو نہیں پہنچتی مگر اس کے پاس ان کے علاوہ سونا چاندی بھی ہے تو اُن کی قیمت سونے چاندی کے ساتھ ملا کر مجموعہ کریں، اگر مجموعہ نصاب کو پہنچا زکاۃ واجب ہے اور اسباب تجارت کی قیمت اُس سکّے سے لگائیں جس کا رواج وہاں زیادہ ہو، جیسے ہندوستان میں روپیہ کا زیادہ چلن ہے، اسی سے قیمت لگائی جائے اور اگر کہیں سونے چاندی دونوں کے سکّوں کا یکساں چلن ہو تو اختیار ہے جس سے چاہیں قیمت لگائیں، مگر جب کہ روپے سے قیمت لگائیں تو نصاب نہیں ہوتی اور اشرفی سے ہو جاتی ہے یا بالعکس تو اُسی سے قیمت لگائی جائے جس سے نصاب پوری ہو اور اگر دونوں سے نصاب پوری ہوتی ہے مگر ایک سے نصاب کے علاوہ نصاب کا پانچواں حصہ زیادہ ہوتا ہے، دوسرے سے نہیں تو اس سے قیمت لگائیں جس سے ایک نصاب اور نصاب کا پانچواں حصہ ہو۔ (3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵: نصاب سے زیادہ مال ہے تو اگر یہ زیادتی نصاب کا پانچواں حصہ ہے تو ا س کی زکاۃ بھی واجب ہے، مثلاً دو سو چالیس ۲۴۰ درم یعنی ۶۳ تولہ چاندی ہو تو زکاۃ میں چھ درم واجب، یعنی ایک تولہ ۶ ماشہ ــــ ۱ ۵ رتی یعنی ۵۲ تولہ ۶ ماشہ کے بعد ہر ۱۰ تولہ ۶ ماشہ پر ۳ ماشہ ۱ ــــ ۱ ۵ رتی بڑھائیں اور سونا نو تولہ ہو تو دو ۲ ماشہ ۵ ــــ ۳ ۵ رتی یعنی ۷ تولہ ۶ ماشہ کے بعد ہر ایک تولہ ۶ ماشہ پر ۳ ــــ ۳ ۵ رتی بڑھائیں اور پانچواں حصہ نہ ہو تو معاف یعنی مثلاً نو تولہ سے ایک رتی کم اگر سونا ہے تو زکاۃ وہی ۷ تولہ ۶ ماشہ