زیور پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کی یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کیا یہ کنز ہے (جس کے بارے میں قرآن مجید میں وعید آئی) ؟ ارشاد فرمایا: ''جو اس حد کو پہنچے کہ اس کی زکاۃ ادا کی جائے اور ادا کر دی گئی تو کنز نہیں۔'' (1)
حدیث ۵: امام احمد باسناد حسن اسما بنت یزید سے راوی، کہتی ہیں۔ میں اور میری خالہ حاضرِخدمتِ اقدس ہوئیں اور ہم سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ ارشاد فرمایا: ''اس کی زکاۃ دیتی ہو، عرض کی نہیں۔ فرمایا: کیا ڈرتی نہیں ہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھیں آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکاۃ ادا کرو۔'' (2)
حدیث ۶: ابو داود و سمرہ بن جندب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم حکم دیا کرتے کہ ''جس کو ہم بیع (تجارت) کے لیے مہیا کریں، اس کی زکاۃ نکالیں۔'' (3)
مسئلہ ۱: سونے کی نصاب بیس ۲۰ مثقال ہے یعنی ساڑھے سات تولے اور چاندی کی دو سو ۲۰۰ درم یعنی ساڑھے باون تولے یعنی وہ تولہ جس سے یہ رائج روپیہ سوا گیارہ ماشے ہے۔ سونے چاندی کی زکاۃ میں وزن کا اعتبار ہے قیمت کا لحاظ نہیں، مثلاً سات تولے سونے یا کم کا زیور یا برتن بنا ہو کہ اس کی کاریگری کی وجہ سے دو سو ۲۰۰ درم سے زائد قیمت ہو جائے یا سونا گراں ہو کہ ساڑھے سات تولے سے کم کی قیمت دو سو درم سے بڑھ جائے، جیسے آج کل کہ ساڑھے سات تولے سونے کی قیمت چاندی کی کئی نصابیں ہوں گی، غرض یہ کہ وزن میں بقدر نصاب نہ ہو تو زکاۃ واجب نہیں قیمت جو کچھ بھی ہو۔ یو ہیں سونے کی زکاۃ میں سونے اور چاندی کی زکاۃ میں چاندی کی کوئی چیز دی تو اس کی قیمت کا اعتبار نہ ہوگا، بلکہ وزن کا ا گرچہ اس میں بہت کچھ صنعت ہو جس کی وجہ سے قیمت بڑھ گئی یا فرض کرو دس آنے بھری چاندی بک رہی ہے اور زکاۃ میں ایک روپیہ دیا جو سولہ آنے کا قرار دیا جاتا ہے تو زکاۃ ادا کرنے میں وہ یہی سمجھا جائے گا کہ سوا گیارہ ماشے چاندی دی، یہ چھ آنے بلکہ کچھ اُوپر جو اس کی قیمت میں زائد ہیں لغو ہیں۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: یہ جو کہا گیا کہ ادائے زکاۃ میں قیمت کا اعتبار نہیں، یہ اسی صورت میں ہے کہ اُس کی جنس کی زکاۃ اُسی جنس سے ادا کی جائے اور اگر سونے کی زکاۃ چاندی سے یا چاندی کی سونے سے ادا کی تو قیمت کا اعتبار ہوگا، مثلاً سونے کی زکاۃ میں چاندی کی کوئی چیز دی جس کی قیمت ایک اشرفی ہے تو ایک اشرفی دینا قرار پائے گا، اگرچہ وزن میں اس کی چاندی پندرہ روپے