Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
901 - 1029
آدھی آدھی بکری کے حصہ دار ہوئے، مگر زکاۃ کسی پر نہیں۔ (1) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۱: شرکت کی مویشی میں زکاۃ دی گئی تو ہر ایک پر اُس کے حصہ کی قدر ہے، جو کچھ حصہ سے زائد گیا وہ شریک سے واپس لے، مثلاً ایک کی اکتالیس ۴۱ بکریاں ہیں، دوسرے کی بیاسی ۸۲ ، کل ایک سو تیئس ۱۲۳ ہوئیں اور دو ۲ زکاۃ میں لی گئیں، یعنی ہر ایک سے ایک مگرچونکہ ایک ایک تہائی کا شریک ہے اور دوسرا دو کا، لہٰذا ہر بکری میں دو تہائی والے کی دو تہائیاں گئیں، جن کا مجموعہ ایک تہائی اور ایک بکری ہے اور ایک تہائی والے کی ہر بکری میں ایک ہی تہائی گئی کہ مجموعہ دو تہائیاں ہوا اور اُس پر واجب ایک بکری ہے، لہٰذا دو تہائیوں والا ایک تہائی والے سے تہائی لینے کا مستحق ہے اور اگر کُل اسّی ۸۰ بکریاں ہیں، ایک دو تہائی کا شریک ہے، دوسرا ایک تہائی کا اور زکاۃ میں ایک بکری لی گئی تو تہائی کا حصہ دار اپنے شریک سے تہائی بکری کی قیمت لے کہ اس پر زکاۃ واجب نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
سونے چاندی مالِ تجارت کی زکاۃ کا بیان
    حدیث ۱: سنن ابی داود و ترمذی میں امیرا لمومنین مولیٰ علی کرم اﷲ وجہہ سے مروی، رسو ل اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''گھوڑے اور لونڈی غلام کی زکاۃ میں نے معاف فرمائی تو اب چاندی کی زکاۃ ہر چالیس درہم سے ایک درہم ادا کرو، مگر ایک سو نوے ۱۹۰ میں کچھ نہیں، جب دو سو ۲۰۰ درہم ہوں تو پانچ درہم دو۔'' (3) 

    حدیث ۲: ابو داود کی دوسری روایت انھیں سے یوں ہے، کہ ہر چالیس ۴۰ درہم سے ایک درہم ہے، مگر جب تک دو سو ۲۰۰ درہم پورے نہ ہوں کچھ نہیں جب دو سو ۲۰۰ پورے ہوں تو پانچ درہم اور اس سے زیادہ ہوں تو اسی حساب سے دیں۔ (4) 

    حدیث ۳: ترمذی شریف میں بروایت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ مروی، کہ دو عورتیں حاضرِخدمت اقدس ہوئیں، اُن کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، ارشاد فرمایا: ''تم اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ عرض کی نہیں۔ فرمایا: تو کیا تم اُسے پسند کرتی ہو کہ اﷲ تعالیٰ تمھیں آگ کے کنگن پہنائے، عرض کی نہ۔ فرمایا: تو اس کی زکاۃ ادا کرو۔'' (5) 

    حدیث ۴: امام مالک و ابو داود و ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں فرماتی ہیں: میں سونے کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۸۱. 

2۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج۳، ص۲۸۰. 

3۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذی''، أبواب الزکاۃ، باب ما جاء في زکاۃ الذھب والورق، الحدیث: ۶۲۰، ج۲، ص۱۲۲. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ السائمۃ، الحدیث: ۱۵۷۲، ج۲، ص۱۴۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''جامع الترمذي''، أبواب الزکاۃ، باب ماجاء في زکاۃ الحلی، الحدیث: ۶۳۷، ج۲، ص۱۳۲.
Flag Counter