Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
900 - 1029
اعادہ کی حاجت نہیں اور محل پر صرف نہ کیا تو اعادہ کیا جائے اور خراج لے لیا تو مطلقاً اعادہ کی حاجت نہیں۔ (1) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۶: مُصدّق (زکاۃ وصول کرنے والے) کے سامنے سائمہ بیچ ڈالا تو مُصدّق کو اختیار ہے چاہے بقدر زکاۃ اس میں سے قیمت لے لے اور اس صورت میں بیع تمام ہوگئی اور چاہے جو جانور واجب ہوا وہ لے لے اور اس وقت جو لیا اس کے حق میں بیع باطل ہوگی اور اگر مُصدّق وہاں موجود نہ تھا بلکہ اس وقت آیا کہ مجلس عقد سے وہ دونوں جُدا ہوگئے تو اب جانور نہیں لے سکتا،جو جانور واجب ہوا، اُس کی قیمت لے لے۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۷: جس غلہّ پر عشر واجب ہوا اُسے بیچ ڈالا تو مُصدّق کو اختیار ہے چاہے بائع (3) سے اس کی قیمت لے یا مشتری (4) سے اُتنا غلّہ واپس لے، بیع اس کے سامنے ہوئی ہو یا دونوں کے جُدا ہونے کے بعد مُصدّق آیا۔ (5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۸: اسّی ۸۰ بکریاں ہیں تو ایک بکری زکاۃ کی ہے، یہ نہیں کیا جاسکتا کہ چالیس ۴۰ چالیس ۴۰ کے دو ۲ گروہ کر کے دو ۲ زکاۃ میں لیں اور اگر دو ۲ شخصوں کی چالیس ۴۰ چالیس ۴۰ بکریاں ہیں تو یہ نہیں کر سکتے کہ انھیں جمع کر کے ایک گروہ کر دیں کہ ایک ہی بکری زکاۃ میں دینی پڑے، بلکہ ہر ایک سے ایک ایک لی جائے گی۔ یو ہیں اگر ایک کی انتالیس ۳۹ ہیں اور ایک کی چالیس ۴۰ تو انتالیس ۳۹ والے سے کچھ نہ لیں گے، غرض نہ مجتمع کو متفرق کریں گے، نہ متفرق کو مجتمع۔ (6) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۱۹: مویشی میں شرکت سے زکاۃ پرکچھ اثر نہیں پڑتا، خواہ وہ کسی قسم کی ہو۔ اگر ہر ایک کا حصہ بقدر نصاب ہے تو دونوں پر پوری پوری زکاۃ واجب اور ایک کا حصہ بقدر نصاب ہے دوسرے کا نہیں تو اس پر واجب ہے، اس پرنہیں مثلاً ایک کی چالیس ۴۰ بکریاں ہیں دوسرے کی تیس ۳۰ تو چالیس والے پر ایک بکری تیس والے پر کچھ نہیں اگر اور کسی کی بقدر نصاب نہ ہوں مگر مجموعہ بقدر نصاب ہے تو کسی پر کچھ نہیں۔ (7) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۲۰: اسّی ۸۰ بکریوں میں اکاسی ۸۱ شریک ہیں، یوں کہ ایک شخص ہر بکری میں نصف کا مالک ہے اور ہر بکری کے دوسرے نصف کا ان میں سے ایک ایک شخص مالک ہے تو اُس کے سب حصوں کا مجموعہ چالیس ۴۰ کے برابر ہوا اور یہ سب صرف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۵۵. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، في زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۱. 

3۔۔۔۔۔۔ یعنی فروخت کرنے والے۔ 

4۔۔۔۔۔۔ یعنی خریدنے والے۔ 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثالث، في زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض مسائل شتی، ج۱، ص۱۸۱. 

6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، وغیرہ.

7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.
Flag Counter