پچیس رہے ان میں بنتِ مخاض کا حکم ہے بس یہی دیں گے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۱۱: دو بکریاں زکاۃ میں واجب ہوئیں اور ایک فربہ بکری دی جو قیمت میں دو کی برابر ہے زکاۃ ادا ہوگئی۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۲: سال تمام کے بعد مالک نصاب نے نصاب خود ہلاک کر دی تو زکاۃ ساقط نہ ہوگی، مثلاً جانور کو چارا پانی نہ دیا گیا کہ مر گیا زکاۃ دینی ہوگی۔ یو ہیں اگر اُس کا کسی پر قرض تھا اور وہ مقروض مالدار ہے سال تمام کے بعد اس نے معاف کر دیا تو یہ ہلاک کرنا ہے، لہٰذا زکاۃ دے اور اگر وہ نادار تھا اور اس نے معاف کردیا تو ساقط ہوگئی۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مالکِ نصاب نے سال تمام کے بعد قرض دے دیا یا عاریت دی یا مال تجارت کو مال تجارت کے بدلے بیچا اور جس کو دیا تھا اُس نے انکار کر دیا اور اُس کے پاس ثبوت نہیں یا وہ مر گیا اور ترکہ نہ چھوڑا تو یہ ہلاک کرنا نہیں، لہٰذا زکاۃ ساقط ہوگئی۔ اور اگر سال تمام کے بعد مالِ تجارت کو غیر مالِ تجارت کے عوض بیچ ڈالا یعنی اس کے بدلے میں جوچیز لی اُس سے تجارت مقصود نہیں، مثلاً خدمت کے لیے غلام یاپہننے کے لیے کپڑے خریدے یا سائمہ کو سائمہ کے بدلے بیچا اور جس کے ہاتھ بیچا اُس نے انکار کر دیا اور اس کے پا س گواہ نہیں یا وہ مر گیا اور ترکہ نہ چھوڑا تو یہ ہلاک نہیں بلکہ ہلاک کرنا ہے، لہٰذا زکاۃ واجب ہے۔ سال تمام کے بعد مال تجارت کو عورت کے مہر میں دے دیا یا عورت نے اپنی نصاب کے بدلے شوہر سے خلع لیا تو زکاۃ دینی ہوگی۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: اس کے پاس روپے اشرفیاں تھیں جن پر سال گزرا مگر ابھی زکاۃ نہیں دی، ان کے بدلے تجارت کے لیے کوئی چیز خریدی اور یہ چیز ہلاک ہوگئی تو زکاۃ ساقط ہوگئی مگر جب کہ اتنی گراں (5) خریدی کہ اتنے نقصان کے ساتھ لوگ نہ خریدتے ہوں تو اُس کی اصلی قیمت پر جو کچھ زیادہ دیا ہے، اس کی زکاۃ ساقط نہ ہوگی کہ وہ ہلاک کرنا ہے اوراگر تجارت کے لیے نہ ہو، مثلاً خدمت کے لیے غلام خریدا، وہ مر گیا تو اس روپے کی زکاۃ ساقط نہ ہوگی۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: بادشاہِ اسلام نے اگرچہ ظالم یا باغی ہو، سائمہ کی زکاۃ لے لی یا عُشر وصول کر لیا اور انھیں محل پر صرف کیا تو