مہینے گزرنے کے بعد اُن کے چالیس ۴۰ بچے ہوئے پھر بکریاں جاتی رہیں، بچے باقی رہ گئے تو اب سال تمام پر یہ بچے قابلِ نصاب نہیں، لہٰذا زکاۃ واجب نہیں۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۶: اگر اُس کے پاس اونٹ، گائیں، بکریاں سب ہیں مگر نصاب سے سب کم ہیں یا بعض تو نصاب پوری کرنے کے لیے خلط نہ کریں گے اور زکاۃ واجب نہ ہوگی۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷: زکاۃ میں متوسط درجہ کا جانور لیا جائے گا چُن کر عمدہ نہ لیں، ہاں اُس کے پاس سب اچھے ہی ہوں تو وہی لیں اور گابھن اوروہ جانور نہ لیں جسے کھانے کے لیے فربہ کیا ہو، نہ وہ مادہ لیں جو اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے نہ بکرا لیا جائے۔ (3) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: جس عمر کا جانور دینا واجب آیا وہ اس کے پاس نہیں اوراس سے بڑھ کر موجودہے تو وہ دے دے اور جو زیادتی ہو واپس لے، مگر صدقہ وصول کرنے والے پر لے لینا واجب نہیں اگرنہ لے اور اُس جانور کو طلب کرے جو واجب آیا یا اس کی قیمت تو اُسے اس کا اختیار ہے جس عمر کا جانور واجب ہوا وہ نہیں ہے اور اس سے کم عمر کا ہے تووہی دیدے اور جو کمی پڑے اُس کی قیمت دے یا واجب کی قیمت دیدے دونوں طرح کر سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: گھوڑے، گدھے، خچر اگرچہ چرائی پر ہوں ان کی زکاۃ نہیں، ہاں اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان کی قیمت لگا کر اُس کا چالیسواں ۴۰ حصہ زکاۃ میں دیں۔ (5) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۰: دو نصابوں کے درمیان جو عفو ہے اس کی زکاۃ نہیں ہوتی یعنی بعد سال تمام اگر وہ عفو ہلاک ہو جائے تو زکاۃ میں کوئی کمی نہ ہوگی اور واجب ہونے کے بعد نصاب ہلاک ہوگئی تو اس کی زکاۃ بھی ساقط ہوگئی اور ہلاک پہلے عفو کی طرف پھیریں گے، اس سے بچے تو اُس کے متصل جو نصاب ہے اس کی طرف پھر بھی بچے تو اسکے بعد وعلیٰ ہذا القیاس۔ مثلاً اسّی ۸۰ بکریاں تھیں چالیس ۴۰ مر گئیں تو اب بھی ایک بکری واجب رہی کہ چالیس کے بعد دوسرا چالیس عفو ہے اور چالیس اونٹ میں پندرہ مر گئے تو بنتِ مخاض واجب ہے کہ چالیس میں چار عفو ہیں وہ نکالے، اس کے بعد چھتیس ۳۶ کی نصاب ہے وہ بھی کافی نہیں، لہٰذا گیارہ اور نکالے،