یعنی ان میں بھی وہی ایک بکری ہے اور ایک سو اکیس ۱۲۱ میں دو اور دو سو ایک۰۱ ۲ میں تین ۳ اور چار سو ۴۰۰ میں چار ۴ پھر ہر سو پر ایک (1) اور جو دو نصابوں کے درمیان میں ہے معاف ہے۔ (2) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲: زکاۃ میں اختیار ہے کہ بکری دے یا بکرا، جو کچھ ہو یہ ضرور ہے کہ سال بھر سے کم کا نہ ہو، اگر کم کا ہو تو قیمت کے حساب سے دیا جا سکتا ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۳: بھیڑ دُنبہ بکری میں داخل ہیں، کہ ایک سے نصاب پوری نہ ہوتی ہو تو دوسری کو ملا کر پوری کریں اور زکاۃ میں بھی ان کو دے سکتے ہیں مگر سال سے کم کے نہ ہوں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۴: جانوروں میں نسب ماں سے ہوتا ہے، تو اگر ہرن اور بکری سے بچہ پیدا ہوا تو بکریوں میں شمار ہوگا اورنصاب میں اگر ایک کی کمی ہے تو اُسے ملا کر پوری کریں گے، بکرے اور ہرنی سے ہے تو نہیں۔ یو ہیں نیل گائے اور بیل سے ہے تو گائے نہیں اور نیل گائے نر اور گائے سے ہے تو گائے ہے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۵: جن جانوروں کی زکاۃ واجب ہے وہ کم سے کم سال بھر کے ہوں، اگر سب ایک سال سے کم کے بچے ہوں تو زکاۃ واجب نہیں اور اگر ایک بھی اُن میں سال بھر کا ہو تو سب اسی کے تابع ہیں، زکاۃ واجب ہو جائے گی، یعنی مثلاً بکری کے چالیس ۴۰ بچے سال سال بھر سے کم کے خریدے تو وقت خریداری سے ایک سال پر زکاۃ واجب نہیں کہ اس وقت قابلِ نصاب نہ تھے بلکہ اُس وقت سے سال لیا جائے گا کہ ان میں کا کوئی سال بھر کا ہوگیا۔ یو ہیں اگر اس کے پاس بقدر نصاب بکریاں تھیں اور چھ