Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
897 - 1029
یعنی ان میں بھی وہی ایک بکری ہے اور ایک سو اکیس ۱۲۱ میں دو اور دو سو ایک۰۱ ۲ میں تین ۳ اور چار سو ۴۰۰ میں چار ۴ پھر ہر سو پر ایک (1) اور جو دو نصابوں کے درمیان میں ہے معاف ہے۔ (2) (عامہ کتب) 

    مسئلہ ۲: زکاۃ میں اختیار ہے کہ بکری دے یا بکرا، جو کچھ ہو یہ ضرور ہے کہ سال بھر سے کم کا نہ ہو، اگر کم کا ہو تو قیمت کے حساب سے دیا جا سکتا ہے۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۳: بھیڑ دُنبہ بکری میں داخل ہیں، کہ ایک سے نصاب پوری نہ ہوتی ہو تو دوسری کو ملا کر پوری کریں اور زکاۃ میں بھی ان کو دے سکتے ہیں مگر سال سے کم کے نہ ہوں۔ (4) (درمختار) 

    مسئلہ ۴: جانوروں میں نسب ماں سے ہوتا ہے، تو اگر ہرن اور بکری سے بچہ پیدا ہوا تو بکریوں میں شمار ہوگا اورنصاب میں اگر ایک کی کمی ہے تو اُسے ملا کر پوری کریں گے، بکرے اور ہرنی سے ہے تو نہیں۔ یو ہیں نیل گائے اور بیل سے ہے تو گائے نہیں اور نیل گائے نر اور گائے سے ہے تو گائے ہے۔ (5) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۵: جن جانوروں کی زکاۃ واجب ہے وہ کم سے کم سال بھر کے ہوں، اگر سب ایک سال سے کم کے بچے ہوں تو زکاۃ واجب نہیں اور اگر ایک بھی اُن میں سال بھر کا ہو تو سب اسی کے تابع ہیں، زکاۃ واجب ہو جائے گی، یعنی مثلاً بکری کے چالیس ۴۰ بچے سال سال بھر سے کم کے خریدے تو وقت خریداری سے ایک سال پر زکاۃ واجب نہیں کہ اس وقت قابلِ نصاب نہ تھے بلکہ اُس وقت سے سال لیا جائے گا کہ ان میں کا کوئی سال بھر کا ہوگیا۔ یو ہیں اگر اس کے پاس بقدر نصاب بکریاں تھیں اور چھ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ مزید آسانی کے لیے ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیجئے:      بکری کا نصاب

تعداد جن پر زکاۃ فرض ہے		شرح زکاۃ 

۴۰ سے ۱۲۰ تک 				ایک بکری 

۱۲۱ سے ۲۰۰ تک 				دو بکریاں 

۲۰۱ سے ۳۹۹تک 			تین بکریاں 

۴۰۰ سے ۴۹۹ تک 			چار بکریاں 

پھر ہر سو پر 				ایک بکری کا اضافہ 

2۔۔۔۔۔۔ ''تنویر الأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۳. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۷۸. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، ج۳، ص۲۴۳. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۲۴۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، الفصل الرابع، ج۱، ص۱۷۸، وغیرہ.
Flag Counter