| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
زکاۃ میں دیں یا مُسِنّ، مثلاً ایک سو بیس ۱۲۰ میں اختیار ہے کہ چار تبیع دیں یا تین مُسِنّ۔ (1) (عامہ کتب)ّ
مسئلہ ۲: بھینس گائے کے حکم میں ہے اور اگر گائے بھینس دونوں ہوں تو زکاۃ میں ملا دی جائیں گی، مثلاً بیس ۲۰ گائے ہیں اور دس ۱۰ بھینسیں تو زکاۃ واجب ہوگئی اور زکاۃ میں اس کا بچہ لیا جائے جو زیادہ ہو یعنی گائیں زیادہ ہوں تو گائے کا بچہ اور بھینسیں زیادہ ہوں تو بھینس کا اور اگر کوئی زیادہ نہ ہو تو زکاۃ میں وہ لیں جو اعلیٰ سے کم ہو اور ادنیٰ سے اچھا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: گائے بھینس کی زکاۃ میں اختیار ہے کہ نر لیا جائے یا مادہ، مگر افضل یہ ہے کہ گائیں زیادہ ہوں تو بچھیا اور نر زیادہ ہوں تو بچھڑا۔ (3) (عالمگیری)بکریوں کی زکاۃ کا بیان
صحیح بخاری شریف میں انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ صدیقِ اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب انھیں بحرین بھیجا تو فرائض صدقہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر فرمائے تھے لکھ کر دیے، ان میں بکری کی نصاب کا بھی بیان ہے اور یہ کہ زکاۃ میں نہ بوڑھی بکری دی جائے، نہ عیب والی نہ بکرا۔
ہاں اگر مصدق (صدقہ وصول کرنے والا) چاہے تو لے سکتا ہے۔ (4) اور زکاۃ کے خوف سے نہ متفرق کو جمع کریں نہ مجتمع کو متفرق کریں۔
مسئلہ ۱: چالیس ۴۰ سے کم بکریاں ہوں تو زکاۃ واجب نہیں اور چالیس ۴۰ ہوں تو ایک بکری اور یہی حکم ایک سو بیس ۱۲۰ تک ہےــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۴۰ سے ۵۹ تک پورے دو سال کا بچھڑا یا بچھیا ۶۰ سے ۶۹ تک ایک ایک سال کے دو بچھڑے یا بچھیاں ۷۰ سے ۷۹ تک ایک سال کا بچھڑایا پچھیا اورایک دو سال کا بچھڑ ۸۰ سے ۸۹ تک دو سال کے دو بچھڑے 1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ البقر، ج۳، ص۲۴۱. 2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثانی في صدقۃ السوائم، الفصل الثالث، ج۱، ص۱۷۸. 3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ الغنم، الحدیث: ۱۴۵۴، ۱۴۵۵،ج۱، ص۴۹۰.