Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
895 - 1029
ہی کریں جیسا شروع میں کیا تھا یعنی ہر پانچ میں ایک بکری اور پچیس ۲۵ میں بنت مخاض، چھتیس ۳۶ میں بنت لبون، یہ ایک سو چھیاسی ۱۸۶ بلکہ ایک سو پچانوے ۱۹۵ تک کا حکم ہوگیا یعنی اتنے میں تین حِقّہ اور ایک بنتِ لبون۔ پھر ایک سو چھیانوے ۱۹۶ سے دو سو ۲۰۰ تک چار حِقّہ اور یہ بھی اختیار ہے کہ پانچ بنت لبون دے دیں۔ پھر دو سو ۲۰۰ کے بعد وہی طریقہ برتیں، جو ایک سو پچاس ۱۵۰ کے بعد ہے یعنی ہر پانچ میں ایک بکری، پچیس ۲۵ میں بنت مخاض، چھتیس ۳۶ میں بنت لبون۔ پھر دو سو چھیالیس ۲۴۶ سے دو سو پچاس ۲۵۰ تک پانچ حِقّہ وعلیٰ ہذا القیاس۔ (1) (عامہ کتب) 

    مسئلہ ۵: اونٹ کی زکاۃ میں جس موقع پر ایک یا دو یا تین یا چار سال کا اونٹ کا بچہ دیا جاتا ہے تو ضرور ہے کہ وہ مادہ ہو، نَر دیں تو مادہ کی قیمت کا ہو ورنہ نہیں لیا جائے گا۔ (2) (درمختار)
گائے کی زکاۃ کا بیان
    ابو داود و ترمذی و نسائی و دارمی معاذ بن جبل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا تو یہ فرمایا: کہ ''ہر تیس ۳۰ گائے سے ایک تبیع یا تبیعہ لیں اور ہر چالیس ۴۰ میں ایک مسن یا مسنّہ۔'' (3) اور اسی کے مثل ابو داود کی دوسری روایت امیر المومنین مولیٰ علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ سے ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ کام کرنے والے جانور کی زکاۃ نہیں۔ (4) 

    مسئلہ ۱: تیس سے کم گائیں ہوں تو زکاۃ واجب نہیں، جب تیس ۳۰ پوری ہوں تو ان کی زکاۃ ایک تبیع یعنی سال بھر کا بچھڑا یا تبیعہ یعنی سال بھر کی بچھیا ہے اور چالیس ۴۰ ہوں تو ایک مسن یعنی دو سال کا بچھڑا یا مُسِنّہ یعنی دو سال کی بچھیا، انسٹھ ۵۹ تک یہی حکم ہے۔ پھر ساٹھ ۶۰ میں دو تبیع یا تبیعہ پھر ہر تیس ۳۰ میں ایک تبیع یا تبیعہ اور ہر چالیس ۴۰ میں ایک مُسِنّ یا مُسِنّہ، مثلاً ستّر ۷۰ میں ایک تبیع اور ایک مُسِنّ اور اسّی ۸۰ میں دو مُسِنّ (5) ، وعلیٰ ہذا القیاس۔ اور جس جگہ تیس ۳۰ اور چالیس ۴۰ دونوں ہو سکتے ہوں وہاں، اختیار ہے کہ تبیع
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''تبیین الحقائق''، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ السوائم، ج۲، ص۳۴. 

و ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب نصاب الابل، ج۳، ص۲۳۸ ۔ ۲۴۰،وغیرہما. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب نصاب الابل، ج۳، ص۲۴۰. 

3۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ السائمۃ، الحدیث: ۱۵۷۶، ج۲، ص۱۴۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ السائمۃ، الحدیث: ۱۵۷۲، ج۲، ص۱۴۲. 

5۔۔۔۔۔۔ مزید آسانی کے لیے ذیل کا نقشہ ملاحظہ کیجئے:      گائے کا نصاب

تعداد جن پر زکاۃ واجب ہے			شرح زکاۃ 

۳۰ سے ۳۹ تک 				ایک سال کا بچھڑا یا بچھیا
Flag Counter