میں ایک بکری واجب ہے یعنی پانچ ہوں تو ایک بکری، دس ۱۰ ہوں تو دو ۲ ، وعلیٰ ہذا القیاس۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲: زکاۃ میں جو بکری دی جائے وہ سال بھر سے کم کی نہ ہو بکری دیں یا بکرا اس کا اختیار ہے۔ (2) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۳: دو نصابوں کے درمیان میں جو ہوں وہ عفو ہیں یعنی اُن کی کچھ زکاۃ نہیں، مثلاً سات آٹھ ہوں، جب بھی وہی ایک بکری ہے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۴: پچیس ۲۵ اونٹ ہوں تو ایک بنت مخاض یعنی اونٹ کا بچہ مادہ جو ایک سال کا ہو چکا، دوسری برس میں ہو۔ پینتیس ۳۵ تک یہی حکم ہے یعنی وہی بنت مخاض دیں گے۔ چھتیس ۳۶ سے پینتالیس ۴۵ تک میں ایک بنت لبون یعنی اونٹ کا مادہ بچہ جو دو سال کا ہو چکا اور تیسری برس میں ہے۔ چھیالیس ۴۶ سے ساٹھ ۶۰ تک میں حِقّہ یعنی اونٹنی جو تین برس کی ہو چکی چوتھی میں ہو۔ اکسٹھ ۶۱ سے پچھتر ۷۵ تک جذعہ یعنی چار سال کی اونٹنی جو پانچویں میں ہو۔ چھہتر ۷۶ سے نوے ۹۰ تک میں دو بنت لبون۔ اکانوے ۹۱ سے ایک سو بیس ۱۲۰ تک میں دو حِقّہ۔ اس کے بعد ایک سو پینتالیس ۱۴۵ تک دو حِقّہ اور ہر پانچ میں ایک بکری، مثلاً ایک سو پچیس ۱۲۵ میں دو حِقّہ ایک بکری اور ایک سو تیس ۱۳۰ میں دو حِقّہ دو بکریاں، (4) وعلیٰ ہذا القیاس (5) ۔ پھر ایک سو پچاس ۱۵۰ میں تین حِقّہ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ان میں ویسا