Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
893 - 1029
چرائی پر رکھا تو جب تک یہ نیّت نہ کرے کہ یہ سائمہ ہے، فقط چرانے سے سائمہ نہ ہوگا۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲: تجارت کے لیے خریدا تھا پھر سائمہ کر دیا، تو زکاۃ کے لیے ابتدائے سال اس وقت سے ہے خریدنے کے وقت سے نہیں۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۳: سال تمام سے پہلے سائمہ کو کسی چیز کے بدلے بیچ ڈالا، اگر یہ چیز اس قسم کی ہے جس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے اور پہلے سے اس کی نصاب اس کے پاس موجود نہیں، تو اب اس کے لیے اُس وقت سے سال شمار کیا جائے گا۔ (3) (درمختار) 

    مسئلہ ۴: وقف کے جانور اور جہاد کے گھوڑے کی زکاۃ نہیں۔ یو ہیں اندھے یا ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے جانور کی زکاۃ نہیں، البتہ اندھا اگر چرائی پر رہتا ہے توواجب ہے۔(4) یو ہیں اگر نصاب میں کمی ہے اور اس کے پاس اندھا جانور ہے کہ اس کے ملانے سے نصاب پوری ہو جاتی ہے تو زکاۃ واجب ہے۔ (عالمگیری) 

    تین قسم کے جانوروں کی زکاۃ واجب ہے، جب کہ سائمہ ہوں۔ 

    (۱) اونٹ۔ 

    (۲) گائے۔ 

    (۳) بکری۔ 

    لہٰذا ان کی نصاب کی تفصیل بیان کرنے کے بعد دیگراحکام بیان کیے جائیں گے۔
اُونٹ کی زکاۃ کا بیان
    صحیحین میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں۔'' (5) اور اس کی زکاۃ میں تفصیل صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں ہے، جو انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔ (6) 

    مسئلہ ۱: پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ واجب نہیں اور جب پانچ یا پانچ سے زیادہ ہوں، مگر پچیس ۲۵ سے کم ہوں تو ہر پانچ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الثاني في صدقۃ السوائم، ج۱، ص۱۷۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''تنویرالأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۵. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۵. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۶. 

5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب لیس فیما دون خمسۃ أوسق صدقۃ، الحدیث:۹۷۹، ص۴۸۷. 

6۔۔۔۔۔۔
Flag Counter