Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
892 - 1029
    مسئلہ ۸۳: کسی کے پاس سونا چاندی دونوں ہیں اور سال تمام سے پہلے ایک کی زکاۃ دی تو وہ دونوں کی زکاۃ ہے یعنی درمیان سال میں ان میں سے ایک ہلاک ہوگیا، اگرچہ وہی جس کی نیّت سے زکاۃ دی ہے تو جو رہ گیا ہے اُس کی زکاۃ یہ ہوگئی اور اگر اس کے پاس گائے بکری اونٹ سب بقدر نصاب ہیں اورپیشتر سے ان میں ایک کی زکاۃ دی توجس کی زکاۃ دی، اُسی کی ہے دوسرے کی نہیں یعنی جس کی زکاۃ دی ہے اگر اثنائے سال میں اُس کی نصاب جاتی رہی تو وہ باقیوں کی زکاۃ نہیں قرار دی جائے گی۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۸۴: اثنائے سال میں جس فقیر کو زکاۃ دی تھی، ختم سال پر وہ مالدار ہوگیا یا مر گیا یا معاذاﷲ مُرتد ہوگیا تو زکاۃ پر اُس کا کچھ اثر نہیں وہ ادا ہوگئی، جس شخص پر زکاۃ واجب ہے اگر وہ مر گیا تو ساقط ہوگئی یعنی اس کے مال سے زکاۃ دینا ضرور نہیں، ہاں اگر وصیّت کر گیا تو تہائی مال تک وصیّت نافذ ہے اور اگر عاقل بالغ ورثہ اجازت دے دیں تو کُل مال سے زکاۃ ادا کی جائے۔ (2) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۸۵: اگر شک ہے کہ زکاۃ دی یا نہیں تو اب دے۔ (3) (ردالمحتار)
سائمہ کی زکاۃ کا بیان
    سائمہ وہ جانورہے جو سال کے اکثر حصہ میں چر کر گذر کرتا ہو اور اوس سے مقصود صرف دودھ اور بچے لینا یا فربہ کرنا ہے۔ (4) (تنویر) اگر گھر میں گھاس لا کر کھلاتے ہوں یا مقصود بوجھ لادنا یا ہل وغیرہ کسی کام میں لانا یا سواری لینا ہے تو اگرچہ چر کر گذر کرتا ہو، وہ سائمہ نہیں اور اس کی زکاۃ واجب نہیں۔ یو ہیں اگر گوشت کھانے کے لیے ہے تو سائمہ نہیں، اگرچہ جنگل میں چرتاہو اور اگر تجارت کا جانور چرائی پر ہے تو یہ بھی سائمہ نہیں، بلکہ اس کی زکاۃ قیمت لگا کر ادا کی جائے گی۔ (5) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱: چھ مہینے چرائی پر رہتا ہے اور چھ مہینے چارہ پاتا ہے تو سائمہ نہیں اور اگر یہ ارادہ تھا کہ اسے چارہ دیں گے یا اس سے کام لیں گے مگر کیا نہیں، یہاں تک کہ سال ختم ہوگیا تو زکاۃ واجب ہے اور اگر تجارت کے لیے تھا اور چھ مہینے یا زیادہ تک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۶. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

3۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۸. 

4۔۔۔۔۔۔ ''تنویرالأبصار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب السائمۃ، ج۳، ص۲۳۳.
Flag Counter