Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
891 - 1029
کہ قرض لے کر ادا کرے ورنہ نہیں کہ حق العبد حق اﷲ سے سخت تر ہے۔ (1) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۷۸: مالکِ نصاب سال تمام سے پیشتر بھی ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ سال تمام پر بھی اس نصاب کا مالک رہے اور اگر ختم سال پر مالک نصاب نہ رہا یا اثنائے سال میں وہ مالِ نصاب بالکل ہلاک ہوگیا تو جو کچھ دیا نفل ہے اور جوشخص نصاب کا مالک نہ ہو، وہ زکاۃ نہیں دے سکتا یعنی آئندہ اگر نصاب کا مالک ہوگیا تو جو کچھ پہلے دیا ہے وہ اُس کی زکاۃ میں محسوب نہ ہوگا۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۷۹: مالک نصاب اگر پیشتر سے چند نصابوں کی زکاۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے یعنی شروع سال میں ایک نصاب کا مالک ہے اور دو یا تین نصابوں کی زکاۃ دے دی اورختم سال پر جتنی نصابوں کی زکاۃ دی ہے اتنی نصابوں کا مالک ہوگیا تو سب کی ادا ہوگئی اور سال تمام تک ایک ہی نصاب کا مالک رہا، سال کے بعد اور حاصل کیا تو وہ زکاۃ اس میں محسوب نہ ہوگی۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۸۰: مالک نصاب پیشتر سے چند سال کی بھی زکاۃ دے سکتا ہے۔ (4) (عالمگیری) لہٰذا مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا زکاۃ میں دیتا رہے، ختم سال پر حساب کرے، اگر زکاۃ پوری ہوگئی فبہا اور کچھ کمی ہو تو اب فوراً دیدے، تاخیر جائزنہیں کہ نہ اُس کی اجازت کہ اب تھوڑا تھوڑا کر کے ادا کرے، بلکہ جو کچھ باقی ہے کُل فوراً ادا کر دے اور زیادہ دے دیا ہے تو سال آئندہ میں مُجرا کر دے۔ (5) 

    مسئلہ ۸۱: ایک ہزار کا مالک ہے اور دو ہزار کی زکاۃ دی اورنیّت یہ ہے کہ سال تمام تک اگر ایک ہزار اور ہوگئے تو یہ اس کی ہے، ورنہ سال آئندہ میں محسوب ہوگی یہ جائز ہے۔ (6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۸۲: یہ گمان کرکے کہ پانسوروپے ہیں، پانسو کی زکاۃ دی پھر معلوم ہوا کہ چار ہی سو تھے تو جو زیادہ دیا ہے، سال آئندہ میں محسوب کر سکتا ہے۔ (7) (خانیہ)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۶. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

5۔۔۔۔۔۔ یعنی آئندہ سال میں اس کو شمار کر لے۔ 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۶. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الزکاۃ، فصل في اداء الزکاۃ، ج۱، ص۱۲۶.
Flag Counter