مسئلہ ۷۳: کسی پر اُس کے روپے آتے ہیں، فقیر سے کہہ دیا اس سے وصول کرلے اور نیّت زکاۃ کی کی بعد قبضہ ادا ہوگئی۔ فقیر پر قرض ہے اس قرض کو اپنے مال کی زکاۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کر دے اور وہ میرے مال کی زکاۃ ہو جائے یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے زکاۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے، اگر وہ دینے سے انکار کرے تو ہاتھ پکڑ کرچھین سکتا ہے اور یوں بھی نہ ملے تو قاضی کے پاس مقدمہ پیش کرے کہ اُس کے پاس ہے اور میرا نہیں دیتا۔ (1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷۴: زکاۃ کا روپیہ مُردہ کی تجہیز و تکفین (2) یا مسجد کی تعمیر میں نہیں صرف کر سکتے کہ تملیک فقیر نہیں پائی گئی اور ان امور میں صرف کر نا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو مالک کر دیں اور وہ صرف کرے اور ثواب دونوں کو ہوگا بلکہ حدیث میں آیا، ''اگر سو ہاتھوں میں صدقہ گزرا تو سب کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا دینے والے کے لیے اور اس کے اجر میں کچھ کمی نہ ہوگی۔'' (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷۵: زکاۃ علانیہ اور ظاہر طور پر افضل ہے اور نفل صدقہ چُھپا کر دینا افضل۔ (4) (عالمگیری) زکاۃ میں اعلان اس وجہ سے ہے کہ چُھپا کر دینے میں لوگوں کو تہمت اور بدگمانی کا موقع ملے گا، نیز اعلان اوروں کے لیے باعثِ ترغیب ہے کہ اس کو دیکھ کر اور لوگ بھی دیں گے مگر یہ ضرور ہے کہ ریا نہ آنے پائے کہ ثواب جاتا رہے گا بلکہ گناہ و استحقاق عذاب ہے۔
مسئلہ ۷۶: زکاۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکاۃ کہہ کر دے، بلکہ صرف نیّت زکاۃ کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہبہ یا قرض کہہ کر دے اور نیّت زکاۃ کی ہو ادا ہوگئی۔ (5) (عالمگیری) یو ہیں نذر یا ہدیہ یا پان کھانے یا بچوں کے مٹھائی کھانے یا عیدی کے نام سے دی ادا ہوگئی۔ بعض محتاج ضرورت مند زکاۃ کا روپیہ نہیں لینا چاہتے، انھیں زکاۃ کہہ کر دیا جائے گا تو نہیں لیں گے لہٰذا زکاۃ کا لفظ نہ کہے۔
مسئلہ ۷۷: زکاۃ ادا نہیں کی تھی اوراب بیمار ہے تو وارثوں سے چُھپا کر دے اور اگر نہ دی تھی اور اب دینا چاہتا ہے، مگر مال نہیں جس سے ادا کرے اور یہ چاہتا ہے کہ قرض لے کر ادا کرے تو اگر غالب گمان قرض ادا ہو جانے کا ہے تو بہتر یہ ہے