مسئلہ ۶۸: زکاۃ کا مال ہاتھ پر رکھا تھا، فقرا لوٹ لے گئے ادا ہوگئی اور اگر ہاتھ سے گر گیا اور فقیر نے اُٹھا لیا اگر یہ اسے پہچانتا ہے اور راضی ہوگیا اور مال ضائع نہیں ہوا تو ہوگئی۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۹: امین کے پاس سے امانت ضائع ہوگئی، اس نے مالک کو دفع خصومت کے لیے کچھ روپے دے دیے اور دیتے وقت زکاۃ کی نیّت کر لی اورمالک فقیر بھی ہے زکاۃ ادا نہ ہوئی۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: مال کو بہ نیّت زکاۃ علیحدہ کر دینے سے بری الذّمہ نہ ہوگا جب تک فقیروں کو نہ دیدے، یہاں تک کہ اگر وہ جاتا رہا تو زکاۃ ساقط نہ ہوئی اوراگر مر گیا تو اس میں وراثت جاری ہوگی۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۱: سال پورا ہونے پر کل نصاب خیرات کر دی، اگرچہ زکاۃ کی نیّت نہ کی بلکہ نفل کی نیّت کی یا کچھ نیّت نہ کی زکاۃ ادا ہوگئی اور اگر کل فقیر کو دے دیا اور منّت یاکسی اور واجب کی نیّت کی تو دینا صحیح ہے، مگر زکاۃ اس کے ذمّہ ہے ساقط نہ ہوئی اور اگر مال کا کوئی حصہ خیرات کیا تو اس حصہ کی بھی زکاۃ ساقط نہ ہوگی، بلکہ اس کے ذمّہ ہے اور اگر کل مال ہلاک ہوگیا تو کل کی زکاۃ ساقط (4) ہوگئی اور کچھ ہلاک ہوا تو جتنا ہلاک ہوا اس کی ساقط اور جو باقی ہے اس کی واجب، اگرچہ وہ بقدر نصاب نہ ہو۔ ہلاک کے یہ معنی ہیں کہ بغیر اس کے فعل کے ضائع ہوگیا، مثلاً چوری ہوگئی یا کسی کو قرض و عاریت دی اُس نے انکار کر دیا اور گواہ نہیں یا وہ مر گیا اور کچھ ترکہ میں نہ چھوڑا اور اگر اپنے فعل سے ہلاک کیا مثلاً صرف کر ڈالا یا پھینک دیا یا غنی کو ہبہ کر دیا (5) تو زکاۃ بدستور واجب الادا ہے، ایک پیسہ بھی ساقط نہ ہوگا اگرچہ بالکل نادار ہو۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۷۲: فقیر پر اُس کا قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکاۃ ساقط ہوگئی اور جُز معاف کیا تو اس جز کی ساقط ہوگئی اور اگر اس صورت میں یہ نیّت کی کہ پورا زکاۃ میں ہو جائے تو نہ ہوگی اور اگر مالدار پر قرض تھا اور کل معاف کر دیا تو زکاۃ ساقط نہ ہوئی بلکہ اُس کے ذمّہ ہے۔ فقیر پر قرض تھا معاف کر دیا اور یہ نیّت کی کہ فلاں پر جو دَین ہے یہ اُس کی زکاۃ ہے ادا نہ ہوئی۔ (7) (عالمگیری، درمختار)