مسئلہ ۶۱: اگر مؤکلوں (1) نے صراحتہً ملانے کی اجازت نہ دی مگر عرف ایسا جاری ہوگیا کہ وکیل ملا دیا کرتے ہیں تو یہ بھی اجازت سمجھی جائے گی، جب کہ مؤکل (2) اس عرف سے واقف ہو، مگر دلال کو خلط کی اجازت نہیں کہ اس میں عرف نہیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۲: وکیل کو اختیار ہے کہ مالِ زکاۃ اپنے لڑکے یا بی بی کو دیدے جب کہ یہ فقیر ہوں اور اگر لڑکا نابالغ ہے تو اُسے دینے کے لیے خود اس وکیل کا فقیر ہونا بھی ضروری ہے، مگر اپنی اولاد یا بی بی کو اس وقت دے سکتا ہے، جب مؤکل نے اُن کے سوا کسی خاص شخص کو دینے کے لیے نہ کہہ دیا ہوورنہ انھیں نہیں دے سکتا۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے، ہاں اگر زکاۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۶۴: اگر زکاۃ دینے والے نے اسے حکم نہیں دیا، خود ہی اُس کی طرف سے زکاۃ دے دی تو نہ ہوئی اگرچہ اب اُس نے جائز کر دیا ہو۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۵: زکاۃ دینے والے نے وکیل کو زکاۃ کا روپیہ دیا وکیل نے اُسے رکھ لیا اور اپنا روپیہ زکاۃ میں دے دیا تو جائز ہے، اگر یہ نیّت ہو کہ اس کے عوض مؤکل کا روپیہ لے لے گا اور اگر وکیل نے پہلے اس روپیہ کو خود خرچ کر ڈالا بعد کو اپنا روپیہ زکاۃ میں دیا تو زکاۃ ادا نہ ہوئی بلکہ یہ تبرع ہے اور مؤکل کو تاوان دے گا۔ (7) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶۶: زکاۃ کے وکیل کو یہ اختیار ہے کہ بغیر اجازت مالک دوسرے کو وکیل بنا دے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۷: کسی نے یہ کہا کہ اگر میں اس گھر میں جاؤں تو مجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیے ان سو روپوں کا خیرات کر دینا ہے پھرگیا اور جاتے وقت یہ نیّت کی کہ زکاۃ میں دے دوں گا تو زکاۃ میں نہیں دے سکتا۔ (9) (عالمگیری)