مسئلہ ۵۷: زکاۃ دینے کے لیے وکیل بنایا اوروکیل کو بہ نیّت زکاۃ مال دیا مگر وکیل نے فقیر کو دیتے وقت نیّت نہیں کی ادا ہوگئی۔ یو ہیں زکاۃ کا مال ذمّی کو دیا کہ وہ فقیر کو دے دے اور ذمّی کو دیتے وقت نیّت کر لی تھی تو یہ نیّت کافی ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۵۸: وکیل کو دیتے وقت کہا نفل صدقہ یا کفارہ ہے مگر قبل اس کے کہ وکیل فقیروں کو دے، اُس نے زکاۃ کی نیّت کر لی تو زکاۃ ہی ہے، اگرچہ وکیل نے نفل یا کفارہ کی نیّت سے فقیر کو دیا ہو۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: ایک شخص چند زکاۃ دینے والوں کا وکیل ہے اور سب کی زکاۃ ملا دی تو اُسے تاوان دینا پڑے گا اور جو کچھ فقیروں کو دے چکا ہے وہ تبرع ہے یعنی نہ مالکوں سے اسکا معاوضہ پائے گا نہ فقیروں سے، البتہ اگر فقیروں کو دینے سے پہلے مالکوں نے ملانے کی اجازت دے دی تو تاوان اس کے ذمہ نہیں۔ یو ہیں اگر فقیروں نے بھی اسے زکاۃ لینے کا وکیل کیا اور اُس نے ملا دیا تو تاوان اس پر نہیں مگراس وقت یہ ضرور ہے کہ اگر ایک فقیر کا وکیل ہے اور چند جگہ سے اسے اتنی زکاۃ ملی کہ مجموعہ بقدر نصاب ہے تو اب جو جان کر زکاۃ دے اس کی زکاۃ ادا نہ ہوگی یا چند فقیروں کا وکیل ہے اور زکاۃ اتنی ملی کہ ہر ایک کا حصہ نصاب کی قدر ہے تو اب اس وکیل کو زکاۃ دینا جائز نہیں مثلاً تین فقیروں کا وکیل ہے اور چھ سو ۶۰۰ درم ملے کہ ہر ایک کا حصہ دو سو ۲۰۰ ہوا جو نصاب ہے اور چھ سو ۶۰۰ سے کم ملا تو کسی کو نصاب کی قدر نہ ملا اوراگر ہر ایک فقیر نے اسے علیحدہ علیحدہ وکیل بنایا تو مجموعہ نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ہر ایک کو جو ملا ہے وہ دیکھا جائے گا اور اس صورت میں بغیر فقیروں کی اجازت کے ملانا جائز نہیں اور ملا دے گا جب بھی زکاۃ ادا ہو جائیگی اور فقیروں کو تاوان دے گا اور اگر فقیروں کا وکیل نہ ہو تو اسے دے سکتے ہیں اگرچہ کتنی ہی نصابیں اُس کے پاس جمع ہوگئیں۔ (3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۰: چند اوقاف کے متولی کو ایک کی آمدنی دوسری میں ملانا جائز نہیں۔ یو ہیں دلال کو زر ثمن یا مبیع کا خلط (4) جائز نہیں۔ یو ہیں اگرچندفقیروں کے لیے سوال کیا تو جو ملا بے اُن کی اجازت کے خلط کرنا جائز نہیں۔ یو ہیں آٹا پیسنے والے کو یہ جائز نہیں کہ لوگوں کے گیہوں ملا دے، مگر جہاں ملا دینے پر عرف جاری ہو تو ملا دینا جائز ہے اور ان سب صورتوں میں تاوان دے گا۔ (5) (خانیہ)