دیں گے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۰: اس کے پاس روپے ہیں جن کی زکاۃ دے چکا ہے پھر اُن سے چرائی کے جانور خریدے اور اس کے یہاں اس جنس کے جانور پہلے سے موجود ہیں تو اُن کو ان کے ساتھ نہ ملائیں گے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: کسی نے اسے چار ہزار روپے بطور ہبہ دیے اور سال پورا ہونے سے پہلے ہزار روپے اورحاصل کیے پھر ہبہ کرنے والے نے اپنے دیے ہوئے روپے حکم قاضی سے واپس لے لیے تو ان جدید روپوں کی بھی اس پر زکاۃ واجب نہیں جب تک ان پر سال نہ گزرلے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: کسی کے پاس تجارت کی بکریاں ہیں، جن کی قیمت دو سو درم ہے اور سال تمام سے پہلے ایک بکری مرگئی، سال پورا ہونے سے پہلے اُس نے اس کی کھال نکال کرپکالی تو زکاۃ واجب ہے۔ (4) (عالمگیری) یعنی جب کہ وہ کھال نصاب کو پورا کرے۔
مسئلہ ۵۳: زکاۃ دیتے وقت یا زکاۃ کے لیے مال علیحدہ کرتے وقت نیت زکاۃ شرط ہے۔ نیّت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھا جائے تو بلا تامل بتا سکے کہ زکاۃ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: سال بھر تک خیرات کرتا رہا، اب نیّت کی کہ جو کچھ دیا ہے زکاۃ ہے تو ادا نہ ہوئی۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: ایک شخص کو وکیل بنایا اُسے دیتے وقت تو نیّت زکاۃ نہ کی، مگر جب وکیل نے فقیر کو دیا اس وقت مؤکل نے نیّت کر لی ہوگئی۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: دیتے وقت نیّت نہیں کی تھی، بعد کو کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اسکی ملک میں ہے تو یہ نیّت کافی ہے ورنہ نہیں۔ (8) (درمختار)