سال ہے تو جو مال درمیان سال میں حاصل ہوا اُسے اس کے ساتھ ملائے، جس کی زکاۃ پہلے واجب ہو مثلاً اس کے پاس ایک ہزار روپے ہیں اور سائمہ کی قیمت جس کی زکاۃ دے چکا تھا کہ دونوں ملائے نہیں جائیں گے، اب درمیان سال میں ایک ہزار روپے اور حاصل کیے تو ان کا سالِ تمام اس وقت ہے جب ان دونوں میں پہلے کا ہو۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴۵: اس کے پاس چرائی کے جانور تھے اور سال تمام پر ان کی زکاۃ دی پھر انھیں روپوں سے بیچ ڈالا اور اُس کے پاس پہلے سے بھی بقدر نصاب روپے ہیں جن پر نصف سال گزرا ہے تو یہ روپے اُن روپوں کے ساتھ نہیں ملائے جائیں گے، بلکہ اُن کے لیے اُس وقت سے نیا سال شروع ہوگا یہ اس وقت ہے کہ یہ ثمن کے روپے بقدر نصاب ہوں، ورنہ بالاجماع انھیں کے ساتھ ملائیں یعنی اُن کی زکاۃ انھیں روپوں کے ساتھ دی جائے۔ (2) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۶: سال تمام سے پیشتر اگر سائمہ کو روپے کے بدلے بیچا تو اب ان روپوں کو اُن رُوپوں کے ساتھ ملالیں گے جو پیشتر سے اُس کے پاس بقدر نصاب موجود ہیں یعنی ان کے سال تمام پر ان کی بھی زکاۃ دی جائے، ان کے لیے نیا سال شروع نہ ہوگا۔ یو ہیں اگر جانور کے بدلے بیچا تو اس جانور کو اس جانور کے ساتھ ملائے ،جو پیشتر سے اس کے پاس ہے اگر سائمہ کی زکاۃ دے دی پھر اسے سائمہ نہ رکھا پھر بیچ ڈالا تو ثمن کو اگلے مال کے ساتھ ملا دیں گے۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: اونٹ، گائے، بکری میں ایک کو دوسرے کے بدلے سال تمام سے پہلے بیچا تو اب سے اُن کے لیے نیا سال شروع ہوگا۔ یو ہیں اگر اور چیز کے بدلے بہ نیّت تجارت بیچا تو اب سے ایک سال گزرنے پر زکاۃ واجب ہوگی اور اگر اپنی جنس کے بدلے بیچا یعنی اونٹ کو اونٹ اور گائے کو گائے کے بدلے جب بھی یہی حکم ہے اور اگر بعد سال تمام بیچا تو زکاۃ واجب ہو چکی اور وہ اُس کے ذمہ ہے۔ (4) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۸: درمیان سال میں سائمہ کو بیچاتھا اورسال تمام سے پہلے عیب کی وجہ سے خریدار نے واپس کر دیا تو اگر قاضی کے حکم سے واپسی ہوئی تو نیا سال شروع نہ ہوگا، ورنہ اب سے سال شروع کیا جائے اوراگر ہبہ کر دیا تھا پھر سال تمام سے پہلے واپس کر لیا تو نیا سال لیا جائے گا، قاضی کے فیصلہ سے واپسی ہو یا بطور خود۔ (5) (جوہرہ)
مسئلہ ۴۹: اُس کے پاس خراجی زمین تھی، خراج ادا کرنے کے بعد بیچ ڈالی تو ثمن کو اصل نصاب کے ساتھ ملا