Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
884 - 1029
مِلک ہو یا عاریت یا کرایہ پر لی ہو، ہاں اگر زمین خراجی ہو اور عاریت یا کرایہ پر لی اور بیج وہ ڈالے جو تجارت کے لیے تھے تو پیداوار میں تجارت کی نیّت صحیح ہے۔ (1) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴۱: مضارب (2) مالِ مضاربت سے جو کچھ خریدے، اگرچہ تجارت کی نیّت نہ ہو، اگرچہ اپنے خرچ کرنے کے لیے خریدے، اس پر زکاۃ واجب ہے یہاں تک کہ اگر مالِ مضاربت سے غلام خریدے۔ پھر ان کے پہننے کو کپڑا اور کھانے کے لیے غلّہ وغیرہ خریدا تو یہ سب کچھ تجارت ہی کے لیے ہیں اور سب کی زکاۃ واجب۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) 

    (۱۰) سال گزرنا، سال سے مراد قمری سال ہے یعنی چاند کے مہینوں سے بارہ مہینے۔ شروع سال اور آخر سال میں نصاب کامل ہے، مگر درمیان میں نصاب کی کمی ہوگئی تو یہ کمی کچھ اثر نہیں رکھتی یعنی زکاۃ واجب ہے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۲: مال تجارت یا سونے چاندی کو درمیان سال میں اپنی جنس (5) یا غیر جنس سے بدل لیا تو اس کی وجہ سے سال گزرنے میں نقصان نہ آیا اور اگر چرائی کے جانور بدل لیے تو سال کٹ گیا یعنی اب سال اس دن سے شمار کریں گے جس دن بدلا ہے۔ (6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۳: جو شخص مالک نصاب ہے اگر درمیان سال میں کچھ اور مال اسی جنس کا حاصل کیا تو اُس نئے مال کا جدا سال نہیں، بلکہ پہلے مال کا ختم سال اُس کے لیے بھی سال تمام ہے، اگرچہ سال تمام سے ایک ہی منٹ پہلے حاصل کیا ہو، خواہ وہ مال اُس کے پہلے مال سے حاصل ہوا یا میراث وہبہ یا اور کسی جائز ذریعہ سے ملا ہو اور اگر دوسری جنس کا ہے مثلاً پہلے اُس کے پاس اونٹ تھے اور اب بکریاں ملیں تو اس کے لیے جدید سال شمار ہوگا۔ (7) (جوہرہ)

    مسئلہ ۴۴: مالک نصاب کو درمیان سال میں کچھ مال حاصل ہوا اور اس کے پاس دو نصابیں ہیں اور دونوں کا جُدا جُدا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، باب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۲. 

2۔۔۔۔۔۔ مضاربت، تجارت میں ایک قسم کی شرکت ہے کہ ایک جانب سے مال ہو اور ایک جانب سے کام اور منافع میں دونوں شریک۔ کام کرنے 

والے کو مضارب اور مالک نے جو کچھ دیا اسے راس المال (مالِ مضاربت) کہتے ہیں۔ 

تفصیلی معلومات کے لیے بہارِ شریعت حصہ ۱۴، میں ''مضاربت کا بیان'' دیکھ لیجئے۔

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۱. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۵. 

5۔۔۔۔۔۔ سونا، چاندی تو مطلقاً یہاں ایک ہی جنس ہیں۔ یوہیں ان کے زیور، برتن وغیرہ اسباب، بلکہ مال تجارت بھی انہیں کی جنس سے شمار ہوگا،

اگرچہ کسی قسم کا ہو کہ اس کی زکاۃ بھی چاندی سونے سے قیمت لگا کر دی جاتی ہے۔ ۱۲ منہ 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۵. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الزکاۃ، باب الزکاۃ الخیل، ص۱۵۵.
Flag Counter