Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
883 - 1029
خریدی یا مکان جو تجارت کے لیے ہے اس کو کسی اسباب کے بدلے کرایہ پر دیا تو یہ اسباب اور وہ خریدی ہوئی چیز تجارت کے لیے ہیں اگرچہ صراحۃً تجارت کی نیّت نہ کی۔ یو ہیں اگر کسی سے کوئی چیز تجارت کے لیے قرض لی تو یہ بھی تجارت کے لیے ہے، مثلاً دو سو درم کامالک ہے اورمن بھر گیہوں قرض لیے تو اگر تجارت کے لیے نہیں لیے تو زکاۃ واجب نہیں کہ گیہوں کے دام انھیں دو سو سے مُجرا کیے جائیں گے تو نصاب باقی نہ رہی اور اگر تجارت کے لیے لیے تو زکاۃ واجب ہوگی کہ اُن گیہوں کی قیمت دو سو پر اضافہ کریں اور مجموعہ سے قرض مُجرا کریں تو دو سو سالم رہے لہٰذا زکاۃ واجب ہوئی۔ (1) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۵: جس عقد میں تبادلہ ہی نہ ہو جیسے ہبہ، وصیت، صدقہ یا تبادلہ ہو مگر مال سے تبادلہ نہ ہو جیسے مہر، بدل خلع(2) بدلِ عتق (3) ان دونوں قسم کے عقد کے ذریعہ سے اگر کسی چیز کا مالک ہوا تو اس میں نیّت تجارت صحیح نہیں یعنی اگرچہ تجارت کی نیّت کرے، زکاۃ واجب نہیں۔ یو ہیں اگر ایسی چیز میراث میں ملی تو اس میں بھی نیّت تجارت صحیح نہیں۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۶: مورث کے پاس تجارت کامال تھا، اس کے مرنے کے بعد وارثوں نے تجارت کی نیّت کی تو زکاۃ واجب ہے۔ یو ہیں چرائی کے جانور وراثت میں ملے، زکاۃ واجب ہے چرائی پر رکھنا چاہتے ہوں یا نہیں۔ (5) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۳۷: نیّت تجارت کے لیے یہ شرط ہے کہ وقت عقد نیّت ہو، اگرچہ دلالۃً تو اگر عقد کے بعد نیّت کی زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ یو ہیں اگررکھنے کے لیے کوئی چیز لی اور یہ نیّت کی کہ نفع ملے گا تو بیچ ڈالوں گا توزکاۃ واجب نہیں۔ (6) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۸: تجارت کے لیے غلام خریداتھا پھر خدمت لینے کی نیّت کر لی پھر تجارت کی نیّت کی تو تجارت کا نہ ہوگا جب تک ایسی چیز کے بدلے نہ بیچے جس میں زکاۃ واجب ہوتی ہے۔ (7) (عالمگیری، درمختار) 

    مسئلہ ۳۹: موتی اورجواہر پر زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ ہزاروں کے ہوں۔ ہاں اگر تجارت کی نیّت سے لیے تو واجب ہوگئی۔ (8) (درمختار) 

    مسئلہ ۴۰: زمین سے جو پیداوار ہوئی اس میں نیّت تجارت سے زکاۃ واجب نہیں، زمین عشری ہو یاخراجی، اس کی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۴. 

و ''الدرالمختار''، و ''ردالمحتار''،کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۲۱. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ مال جس کے بدلے میں نکاح زائل کیا جائے۔ 

3۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ مال جس کے بدلے میں غلام یا لونڈی کو آزاد کیا جائے۔ 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۴. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۳۱.         7۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۲۲۸. 

8۔۔۔۔۔۔ ''تنویرالأبصار'' و ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۳۰.
Flag Counter