علاوہ ہے یعنی اگر مصحف شریف دو سو درم قیمت کا ہو تو زکاۃ لینا جائز نہیں۔ (1) (جوہرہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۲: طبیب کے لیے طب کی کتابیں حاجتِ اصلیہ میں ہیں، جب کہ مطالعہ میں رکھتا ہو یا اُسے دیکھنے کی ضرورت پڑے، نحو و صرف و نجوم اوردیوان اور قصے کہانی کی کتابیں حاجتِ اصلیہ میں نہیں، اصول فقہ و علم کلام و اخلاق کی کتابیں جیسے احیاء العلوم و کیمیائے سعادت وغیرہما حاجتِ اصلیہ سے ہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۳: کفار اور بد مذہبوں کے رد اور اہلِ سنت کی تائید میں جو کتابیں ہیں وہ حاجتِ اصلیہ سے ہیں۔ یو ہیں عالم اگر بدمذہب وغیرہ کی کتابیں اس لیے رکھے کہ اُن کا رد کریگا تو یہ بھی حاجتِ اصلیہ میں ہیں اور غیرعالم کو تو ان کا دیکھنا ہی جائز نہیں۔
(۹) مال نامی ہونا یعنی بڑھنے والا خواہ حقیقۃً بڑھے یا حکماً یعنی اگر بڑھانا چاہے تو بڑھائے یعنی اُس کے یا اُس کے نائب کے قبضہ میں ہو، ہر ایک کی دو صورتیں ہیں وہ اسی لیے پیدا ہی کیا گیا ہو اسے خلقی کہتے ہیں، جیسے سونا چاندی کہ یہ اسی لیے پیدا ہوئے کہ ان سے چیزیں خریدی جائیں یا اس لیے مخلوق تو نہیں، مگر اس سے یہ بھی حاصل ہوتا ہے، اسے فعلی کہتے ہیں۔ سونے چاندی کے علاوہ سب چیزیں فعلی ہیں کہ تجارت سے سب میں نُمو ہوگا۔ (3) سونے چاندی میں مطلقاً زکاۃ واجب ہے، جب کہ بقدر نصاب ہوں اگرچہ دفن کر کے رکھے ہوں، تجارت کرے یا نہ کرے اور ان کے علاوہ باقی چیزوں پر زکاۃ اس وقت واجب ہے کہ تجارت کی نیّت ہو یا چرائی پر چھوٹے جانور و بس، خلاصہ یہ کہ زکاۃ تین قسم کے مال پر ہے۔
(۱) ثمن یعنی سونا چاندی۔
(۲) مال تجارت۔
(۳) سائمہ یعنی چرائی پر چھوٹے جانور۔ (4) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳۴: نیّت تجارت کبھی صراحۃً ہوتی ہے کبھی دلالۃً صراحۃً یہ کہ عقد کے وقت ہی نیّت تجارت کر لی خواہ وہ عقد خریداری ہو یا اجارہ، ثمن روپیہ اشرفی ہو یا اسباب میں سے کوئی شے دلالۃً کی صورت یہ ہے کہ مال تجارت کے بدلے کوئی چیز