Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
881 - 1029
آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہلِ علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلّہ۔ (1) (ہدایہ، عالمگیری، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۷: ایسی چیز خریدی جس سے کوئی کام کریگا اور کام میں اس کا اثر باقی رہے گا، جیسے چمڑا پکانے کے لیے مازو (2) اور تیل وغیرہ اگر اس پر سال گزر گیا زکاۃ واجب ہے۔ یو ہیں رنگریز نے اُجرت پر کپڑا رنگنے کے لیے کسم، زعفران خریدا تو اگر بقدر نصاب ہے اور سال گزر گیا زکاۃ واجب ہے۔ پُڑیا وغیرہ رنگ کا بھی یہی حکم ہے اور اگر وہ ایسی چیز ہے جس کا اثر باقی نہیں رہے گا، جیسے صابون تو اگرچہ بقدر نصاب ہو اور سال گزر جائے زکاۃ واجب نہیں۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۸: عطر فروش نے عطر بیچنے کے لیے شیشیاں خریدیں، ان پر زکاۃ واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۹: خرچ کے لیے روپے کے پیسے لیے تو یہ بھی حاجت اصلیہ میں ہیں۔ حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا کیا اور جو باقی رہے اگر بقدر نصاب ہیں تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگرچہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے اور اگر سال تمام کے وقت حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکاۃ واجب نہیں۔ (5) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۰: اہلِ علم کے لیے کتابیں حاجت اصلیہ سے ہیں اور غیر اہل کے پاس ہوں، جب بھی کتابوں کی زکاۃ واجب نہیں جب کہ تجارت کے لیے نہ ہوں، فرق اتنا ہے کہ اہلِ علم کے پاس ان کتابوں کے علاوہ اگر مال بقدر نصاب نہ ہو تو زکاۃ لینا جائز ہے اور غیر اہلِ علم کے لیے ناجائز، جب کہ دو سو درم قیمت کی ہوں۔ اہل وہ ہے جسے پڑھنے پڑھانے یا تصحیح کے لیے ان کتابوں کی ضرورت ہو۔ کتاب سے مراد مذہبی کتاب فقہ و تفسیر وحدیث ہے، اگر ایک کتاب کے چند نسخے ہوں تو ایک سے زائد جتنے نسخے ہوں اگر دو سو درم کی قیمت کے ہوں تو اس اہل کو بھی زکاۃ لینا ناجائز ہے، خواہ ایک ہی کتاب کے زائد نسخے اس قیمت کے ہوں یا متعدد کتابوں کے زائد نسخے مل کر اس قیمت کے ہوں۔ (6) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۱: حافظ کے لیے قرآن مجید حاجتِ اصلیہ سے نہیں اور غیر حافظ کے لیے ایک سے زیادہ حاجتِ اصلیہ کے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲. 

و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۲. 

2۔۔۔۔۔۔ ایک دوا کا نام۔ 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۸. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۲۱۳. 

6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۷.
Flag Counter