Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
880 - 1029
علاوہ دَین کے نصاب کا مالک ہوگیا تو زکاۃ واجب ہوگئی، اس کی صورت یہ ہے کہ فرض کرو قرض خواہ نے قرض معاف کر دیا تو اب چونکہ اس کے ذمہ دَین نہ رہا اور سال بھی پورا ہو چکا ہے، لہٰذا واجب ہے کہ ابھی زکاۃ دے، یہ نہیں کہ اب سے ایک سال گزرنے پر زکاۃ واجب ہوگی اور اگر شروع سال سے مدیُون تھا اور سال تمام پر معاف کیا تو ابھی زکاۃ واجب نہ ہوگی بلکہ اب سے سال گزرنے پر۔ (1) (ردالمحتار وغیرہ) 

    مسئلہ ۲۴: ایک شخص مدیُون ہے اور چند نصاب کا مالک کہ ہر ایک سے دَین ادا ہو جاتا ہے، مثلاً اس کے پاس روپے اشرفیاں بھی ہیں، تجارت کے اسباب بھی، چرائی کے جانور بھی تو روپے اشرفیاں دَین کے مقابل سمجھے اور اور چیزوں کی زکاۃ دے اور اگر روپے اشرفیاں نہ ہوں اور چرائی کے جانوروں کی چند نصابیں ہوں، مثلاً چالیس بکریاں ہیں اور تیس گائیں اور پانچ اونٹ تو جس کی زکاۃ میں اسے آسانی ہو، اُس کی زکاۃ دے اور دوسرے کو دَین میں سمجھے تو اُس صورتِ مذکورہ میں اگر بکریوں یا اونٹوں کی زکاۃ دے گا تو ایک بکری دینی ہوگی اور گائے کی زکاۃ میں سال بھرکا بچھڑا اور ظاہر ہے کہ ایک بکری دینا بچھڑا دینے سے آسان ہے، لہٰذا بکری دے سکتا ہے اور اگر برابر ہوں تو اسے اختیار ہے۔ مثلاً پانچ اونٹ ہیں اورچالیس بکریاں دونوں کی زکاۃ ایک بکری ہے، اُسے اختیار ہے جسے چاہے دَین کے لیے سمجھے اور جس کی چاہے زکاۃ دے اور یہ سب تفصیل اُس وقت ہے کہ بادشاہ کی طرف سے کوئی زکاۃ وصو ل کرنے والا آئے، ورنہ اگر بطور خود دینا چاہتا ہے تو ہر صورت میں اختیار ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۵: اس پر ہزار روپے قرض ہیں اور اس کے پاس ہزار روپے ہیں اور ایک مکان اور خدمت کے لیے ایک غلام تو زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ مکان و غلام دس ہزار روپے کی قیمت کے ہوں کہ یہ چیزیں حاجت اصلیہ سے ہیں اور جب روپے موجود ہیں تو قرض کے لیے روپے قرار دیے جائیں گے نہ کہ مکان و غلام۔ (3) (عالمگیری) 

    (۸) نصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو۔ (4) 

    مسئلہ ۲۶: حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور، خدمت کے لیے لونڈی غلام،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۵، وغیرہ.

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۶. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۳. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۱۷۲.
Flag Counter