اور اگرعمرو کی دس شخصوں نے کفالت کی اور سب کے پاس ہزار ہزار روپے ہیں جب بھی ان میں کسی پر زکاۃ واجب نہیں کہ قرض خواہ ہر ایک سے مطالبہ کر سکتا ہے اور بصورت نہ ملنے کے جس کوچاہے قید کرا دے۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: جو دَین میعادی ہو وہ مذہب صحیح میں وجوب زکاۃ کا مانع نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
چونکہ عادۃً دَینِ مہر کا مطالبہ نہیں ہوتا، لہٰذا اگرچہ شوہر کے ذمہ کتنا ہی دَینِ مہر ہو جب وہ مالکِ نصاب ہے، زکاۃ واجب ہے۔ (3) (عالمگیری) خصوصاً مہر مؤخر جو عام طور پر یہاں رائج ہے جس کی ادا کی کوئی میعاد معیّن نہیں ہوتی، اس کے مطالبہ کا تو عورت کو اختیار ہی نہیں، جب تک موت یا طلاق واقع نہ ہو۔
مسئلہ ۲۰: عورت کا نفقہ شوہر پر دَین نہیں قرار دیا جائے گا جب تک قاضی نے حکم نہ دیا ہو یا دونوں نے باہم کسی مقدار پر تصفیہ نہ کر لیا ہو اور اگریہ دونوں نہ ہوں تو ساقط ہوجائے گا شوہر پر اس کا دینا واجب نہ ہوگا، لہٰذا مانع زکاۃ نہیں۔ عورت کے علاوہ کسی رشتہ دار کانفقہ اس وقت دَین ہے جب ایک مہینہ سے کم زمانہ گزرا ہو یا اُس رشتہ دار نے قاضی کے حکم سے قرض لیا اور اگر یہ دونوں باتیں نہیں تو ساقط ہے اورمانع زکاۃ نہیں۔ (4) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: دَین اس وقت مانع زکاۃ ہے جب زکاۃ واجب ہونے سے پہلے کا ہو اور اگر نصاب پرسال گزرنے کے بعد ہوا تو زکاۃ پر اس دَین کا کچھ اثر نہیں۔(5) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۲۲: جس دَین کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا اس جگہ اعتبار نہیں یعنی وہ مانع زکاۃ نہیں مثلاً نذر وکفارہ و صدقہ فطر و حج و قربانی کہ اگر ان کے مصارف نصاب سے نکالیں تو اگرچہ نصاب باقی نہ رہے زکاۃ واجب ہے، عشر و خراج واجب ہونے کے لیے دین مانع نہیں یعنی اگرچہ مدیُون ہو، یہ چیزیں اس پر واجب ہو جائیں گی۔ (6) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۲۳: جو دَین اثنائے سال میں عارض ہوا یعنی شروع سال میں مدیُون نہ تھا پھر مدیُون ہوگیا پھر سال تمام پر