مسئلہ ۱۶: جو مال تجارت کے لیے خریدا اور سال بھر تک اس پر قبضہ نہ کیا تو قبضہ کے قبل مشتری پر زکاۃ واجب نہیں اور قبضہ کے بعد اس سال کی بھی زکاۃ واجب ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
(۷) نصاب کا دَین سے فارغ ہونا۔
مسئلہ ۱۷: نصاب کا مالک ہے مگر اس پردَین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکاۃ واجب نہیں، خواہ وہ دَین بندہ کا ہو، جیسے قرض، زرثمن (2) کسی چیز کا تاوان یا اﷲ عزوجل کا دَین ہو، جیسے زکاۃ، خراج مثلاً کوئی شخص صرف ایک نصاب کا مالک ہے اور دو سال گذر گئے کہ زکاۃ نہیں دی تو صرف پہلے سال کی زکاۃ واجب ہے دوسرے سال کی نہیں کہ پہلے سال کی زکاۃ اس پر دَین ہے اس کے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں رہتی، لہٰذا دوسرے سال کی زکاۃ واجب نہیں۔ یو ہیں اگر تین سال گذر گئے، مگرتیسرے میں ایک دن باقی تھا کہ پانچ درم اور حاصل ہوئے جب بھی پہلے ہی سال کی زکاۃ واجب ہے کہ دوسرے اور تیسرے سال میں زکاۃ نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں، ہاں جس دن کہ وہ پانچ درم حاصل ہوئے اس دن سے ایک سال تک اگر نصاب باقی رہ جائے تو اب اس سال کے پورے ہونے پر زکاۃ واجب ہوگی۔ یو ہیں اگر نصاب کا مالک تھا اور سال تمام پر زکاۃ نہ دی پھر سارے مال کو ہلاک کر دیا پھر اور مال حاصل کیا کہ یہ بقدر نصاب ہے، مگر سال اوّل کی زکاۃ جو اس کے ذمہ دَین ہے اس میں سے نکالیں تو نصاب باقی نہیں رہتی تو اس نئے سال کی زکاۃ واجب نہیں اور اگر اُس پہلے مال کو اُس نے قصداً ہلاک نہ کیا، بلکہ بلا قصد ہلاک ہوگیا تو اُس کی زکاۃ جاتی رہی، لہٰذا اس کی زکاۃ دَین نہیں تو اس صورت میں اس نئے سال کی زکاۃ واجب ہے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: اگر خود مدیُون (4) نہیں مگر مدیُون کا کفیل (5) ہے اور کفالت کے روپے نکالنے کے بعد نصاب باقی نہیں رہتی، زکاۃ واجب نہیں، مثلاً زید کے پاس ہزار روپے ہیں اور عمرو نے کسی سے ہزار قرض لیے اور زید نے اس کی کفالت کی تو زید پر اس صورت میں زکاۃ واجب نہیں کہ زید کے پاس اگرچہ روپے ہیں مگر عمرو کے قرض میں مستغرق ہیں کہ قرض خواہ کواختیار ہے زید سے مطالبہ کرے اورروپے نہ ملنے پر یہ اختیار ہے کہ زید کوقید کرا دے تویہ روپے دَین میں مستغرق ہیں، لہٰذا زکاۃ واجب نہیں