Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
877 - 1029
سے انکار کر دیا اور اُس کے پاس گواہ نہیں پھر یہ اموال مل گئے، تو جب تک نہ ملے تھے، اُس زمانہ کی زکاۃ واجب نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۱: اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے یا نادار ہے یا قاضی کے یہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہو چکا یا وہ منکر ہے، مگر اُس کے پاس گواہ موجود ہیں تو جب مال ملے گا، سالہائے گزشتہ کی بھی زکاۃ واجب ہے۔ (2) (تنویر) 

    مسئلہ ۱۲: چَرائی کا جانور اگر کسی نے غصب کیا، اگرچہ وہ اقرار کرتا ہو تو ملنے کے بعد بھی اس زمانہ کی زکاۃ واجب نہیں۔ (3) (خانیہ) 

    مسئلہ ۱۳: غصب کیے ہوئے کی زکاۃ غاصب پر واجب نہیں کہ یہ  اس کا مال ہی نہیں، بلکہ غاصب پر یہ واجب ہے کہ جس کا مال ہے اُسے واپس دے اور اگر غاصب نے اُس مال کو اپنے مال میں خلط کر دیا کہ تمیز ناممکن ہو اور اس کا اپنا مال بقدر نصاب ہے تو مجموع پر زکاۃ واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۴: ایک نے دوسرے کے مثلاً ہزار روپے غصب کر لیے پھر وہی روپے اُس سے کسی اور نے غصب کر کے خرچ کر ڈالے اور ان دونوں غاصبوں کے پاس ہزار ہزار روپے اپنی ملک کے ہیں تو غاصب اوّل پر زکاۃ واجب ہے دوسرے پر نہیں۔ (5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۵: شے مرہُون (6) کی زکاۃ نہ مرتہن (7) پر ہے، نہ راہن (8) پر، مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکاۃ واجب نہیں۔ (9) (درمختار وغیرہ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۱۸. 

2۔۔۔۔۔۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۱۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ، کتاب الزکاۃ، ج۱، ص۱۲۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب فیما لو صادر السطان رجلا... إلخ، ج۳، ص۲۵۹. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۳. 

6۔۔۔۔۔۔ یعنی جو چیز گروی رکھی گئی ہے۔ 

7۔۔۔۔۔۔ یعنی جس کے پاس چیز گروی رکھی گئی ہو۔ 

8۔۔۔۔۔۔ یعنی گروی رکھنے والا۔ 

تفصیلی معلومات کے لئے دیکھئے :بہارِ شریعت حصہ ۱۷ میں رہن کا بیان۔ 

9۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۱۴، وغیرہ.
Flag Counter