سے انکار کر دیا اور اُس کے پاس گواہ نہیں پھر یہ اموال مل گئے، تو جب تک نہ ملے تھے، اُس زمانہ کی زکاۃ واجب نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: اگر دین ایسے پر ہے جو اس کا اقرار کرتا ہے مگر ادا میں دیر کرتا ہے یا نادار ہے یا قاضی کے یہاں اس کے مفلس ہونے کا حکم ہو چکا یا وہ منکر ہے، مگر اُس کے پاس گواہ موجود ہیں تو جب مال ملے گا، سالہائے گزشتہ کی بھی زکاۃ واجب ہے۔ (2) (تنویر)
مسئلہ ۱۲: چَرائی کا جانور اگر کسی نے غصب کیا، اگرچہ وہ اقرار کرتا ہو تو ملنے کے بعد بھی اس زمانہ کی زکاۃ واجب نہیں۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۱۳: غصب کیے ہوئے کی زکاۃ غاصب پر واجب نہیں کہ یہ اس کا مال ہی نہیں، بلکہ غاصب پر یہ واجب ہے کہ جس کا مال ہے اُسے واپس دے اور اگر غاصب نے اُس مال کو اپنے مال میں خلط کر دیا کہ تمیز ناممکن ہو اور اس کا اپنا مال بقدر نصاب ہے تو مجموع پر زکاۃ واجب ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۴: ایک نے دوسرے کے مثلاً ہزار روپے غصب کر لیے پھر وہی روپے اُس سے کسی اور نے غصب کر کے خرچ کر ڈالے اور ان دونوں غاصبوں کے پاس ہزار ہزار روپے اپنی ملک کے ہیں تو غاصب اوّل پر زکاۃ واجب ہے دوسرے پر نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: شے مرہُون (6) کی زکاۃ نہ مرتہن (7) پر ہے، نہ راہن (8) پر، مرتہن تو مالک ہی نہیں اور راہن کی ملک تام نہیں کہ اس کے قبضہ میں نہیں اور بعد رہن چھڑانے کے بھی ان برسوں کی زکاۃ واجب نہیں۔ (9) (درمختار وغیرہ)