Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
876 - 1029
    مسئلہ ۷: بوہرے پر زکاۃ واجب نہیں، جب کہ اسی حالت میں پورا سال گزرے اور اگر کبھی کبھی اُسے افاقہ بھی ہوتا ہے تو واجب ہے۔ جس پر غشی طاری ہوئی اس پر زکاۃ واجب ہے، اگرچہ غشی کامل سال بھر تک ہو۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار) 

    (۴) آزادہونا۔ 

    غلام پر زکاۃ واجب نہیں، اگرچہ ماذون ہو (یعنی اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دی ہو) یا مکاتب (2) یا ام ولد (3) یا مُستسعےٰ (یعنی غلام مشترک جس کو ایک شریک نے آزاد کر دیا اور چونکہ وہ مالدار نہیں ہے، اس وجہ سے باقی شریکوں کے حصے کما کر پورے کرنے کا اُسے حکم دیا گیا)۔ (4) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۸: ماذون غلام نے جو کچھ کمایا ہے اس کی زکاۃ نہ اُس پر ہے نہ اُس کے مالک پر، ہاں جب مالک کو دے دیا تو اب ان برسوں کی بھی زکاۃ مالک اداکرے، جب کہ غلام ماذون دَین میں مستغرق نہ ہو، ورنہ اس کی کمائی پر مطلقاً زکاۃ واجب نہیں، نہ مالک کے قبضہ کرنے کے پہلے نہ بعد۔ (5) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۹: مکاتب نے جو کچھ کمایا اس کی زکاۃ واجب نہیں نہ اس پر نہ اس کے مالک پر، جب مالک کو دے دے اور سال گذر جائے، اب بشرائط زکاۃ مالک پر واجب ہوگی اور گذشتہ برسوں کی واجب نہیں۔ (6) (ردالمحتار) 

    (۵) مال بقدر نصاب اُس کی مِلک میں ہونا، اگر نصاب سے کم ہے تو زکاۃ واجب نہ ہوئی۔ (7) (تنویر، عالمگیری) 

    (۶) پورے طور پر اُس کا مالک ہو یعنی اس پر قابض بھی ہو۔ (8) 

    مسئلہ ۱۰: جو مال گم گیا یا دریا میں گِر گیا یا کسی نے غصب کر لیا اور اس کے پاس غصب کے گواہ نہ ہوں یا جنگل میں دفن کر دیا تھا اوریہ یاد نہ رہا کہ کہاں دفن کیا تھا یا انجان کے پاس امانت رکھی تھی اور یہ یاد نہ رہا کہ وہ کون ہے یا مدیُون نے دَین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في احکام المعتوہ، ج۳، ص۲۰۷. 

و ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ غلام جس کا آقا مال کی ایک مقدار مقرر کرکے یہ کہہ دے کہ اتنا ادا کردے تو آزاد ہے اور غلام اسے قبول بھی کرلے۔ 

3۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ لونڈی جس کے بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ نے اقرار کیا کہ یہ میرا بچہ ہے۔ 

تفصیلی معلومات کے لئے بہارِ شریعت حصہ ۹ میں مدبّر، مکاتب اور ام ولد کا بیان ملاحظہ فرمائیں۔ 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۱، وغیرہ. 

5۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفاء، ج۳، ص۲۱۴. 

6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

7۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۲. 

8۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.
Flag Counter