مسئلہ ۳: فقیر کو بہ نیت زکاۃ مکان رہنے کو دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مال کا کوئی حصہ اسے نہ دیا بلکہ منفعت کا مالک کیا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۴: مالک کرنے میں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے کو دے جو قبضہ کرنا جانتا ہو، یعنی ایسا نہ ہو کہ پھینک دے یا دھوکہ کھائے ورنہ ادا نہ ہوگی، مثلاً نہایت چھوٹے بچہ یا پاگل کو دینا اور اگر بچہ کو اتنی عقل نہ ہو تو اُس کی طرف سے اس کا باپ جو فقیر ہو یا وصی یا جس کی نگرانی میں ہے قبضہ کریں۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: زکاۃ واجب ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں:
(۱) مسلمان ہونا۔
کافر پر زکاۃ واجب نہیں یعنی اگر کوئی کافر مسلمان ہوا تو اُسے یہ حکم نہیں دیا جائے گا کہ زمانہ کفر کی زکاۃ ادا کرے۔ (3) (عامہ کتب) معاذ اﷲ کوئی مرتد ہوگیا تو زمانہ اسلام میں جو زکاۃ نہیں دی تھی ساقط ہوگئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: کافر دارالحرب میں مسلمان ہوا اور وہیں چند برس تک اقامت کی پھر دارالاسلام میں آیا، اگر اس کو معلوم تھا کہ مالدار مسلمان پر زکاۃ واجب ہے، تو اُس زمانہ کی زکاۃ واجب ہے ورنہ نہیں اور اگر دارالاسلام میں مسلمان ہوا اور چند سال کی زکاۃ نہیں دی تو ان کی زکاۃ واجب ہے، اگرچہ کہتا ہو کہ مجھے فرضیتِ زکاۃ کا علم نہیں کہ دارالاسلام میں جہل عذر نہیں۔ (5) (عالمگیری وغیرہ)
(۲) بلوغ۔
(۳) عقل، نابالغ پر زکاۃ واجب نہیں اور جنون اگر پورے سال کو گھیرلے تو زکاۃ واجب نہیں اور اگر سال کے اوّل آخر میں افاقہ ہوتا ہے، اگرچہ باقی زمانہ جنون میں گذرتا ہے توواجب ہے، اور جنون اگر اصلی ہو یعنی جنون ہی کی حالت میں بلوغ ہوا تو اس کا سال ہوش آنے سے شروع ہوگا۔ یو ہیں اگر عارضی ہے مگر پورے سال کو گھیر لیا تو جب افاقہ ہوگا اس وقت سے سال کی ابتدا ہوگی۔ (6) (جوہرہ، عالمگیری، ردالمحتار)