| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
حدیث ۲۶: طبرانی نے کبیر میں ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لاتا ہے، وہ اپنے مال کی زکاۃ ادا کرے اور جو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لاتا ہے، وہ حق بولے یا سکوت کرے یعنی بُری بات زبان سے نہ نکالے اورجو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لاتا ہے، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔'' (1)
حدیث ۲۷: ابو داود نے حسن بصری سے مرسلاًاور طبرانی و بیہقی نے ایک جماعت صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: کہ ''زکاۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقہ سے کرو اور بَلا نازل ہونے پر دُعا و تضرع سے استعانت کرو۔'' (2)
حدیث ۲۸: ابن خزیمہ اپنی صحیح اور طبرانی اوسط اور حاکم مستدرک میں جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی، بیشک اﷲ تعالیٰ نے اُس سے شر دُور فرما دیا۔'' (3)مسائل فقہیہ
زکاۃ شریعت میں اﷲ (عزوجل) کے لیے مال کے ایک حصہ کا جو شرع نے مقرر کیا ہے، مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے اور وہ فقیر نہ ہاشمی ہو، نہ ہاشمی کا آزاد کردہ غلام اور اپنا نفع اُس سے بالکل جدا کر لے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱: زکاۃ فرض ہے، اُس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مردود الشہادۃ ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: مباح کر دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی، مثلاً فقیر کو بہ نیت زکاۃ کھانا کھلا دیا زکاۃ ادا نہ ہوئی کہ مالک کر دینا نہیں پایا گیا، ہاں اگر کھانا دے دیا کہ چاہے کھائے یالے جائے تو ادا ہوگئی۔ یو ہیں بہ نیت زکاۃ فقیر کو کپڑا دے دیا یا پہنا دیا ادا ہوگئی۔ (6) (درمختار)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''المجعم الکبیر''، الحدیث: ۱۳۵۶۱، ج۱۲، ص۳۲۴. 2۔۔۔۔۔۔ ''مراسیل أبي داود'' مع ''سنن أبي داود''، باب في الصائم یصیب أھلہ، ص۸. 3۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط''، باب الألف، الحدیث: ۱۵۷۹، ج۱، ص۴۳۱. 4۔۔۔۔۔۔ ''تنویر الأبصار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۳ ۔ ۲۰۶. 5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ص۱۷۰. 6۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''معہ''ردالمحتار''، کتاب الزکاۃ، ج۳، ص۲۰۴.