Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
873 - 1029
اﷲ تعالیٰ دستِ راست سے قبول فرماتا ہے پھر اسے اُس کے مالک کے لیے پرورش کرتا ہے، جیسے تم میں کوئی اپنے بچھیرے کی تربیّت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ صدقہ پہاڑ برابر ہو جاتا ہے۔'' (1) 

    حدیث ۲۰ و ۲۱: نسائی و ابن ماجہ اپنی سنن میں و ابن خزیمہ و ابن حبان اپنی صحیح میں اور حاکم نے بافادہ تصحیح ابوہریرہ و ابوسعید رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم نے خطبہ پڑھا اور یہ فرمایا: کہ ''قسم ہے! اُس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔'' اُس کو تین بار فرمایا پھر سر جُھکا لیا تو ہم سب نے سر جُھکا لیے اور رونے لگے، یہ نہیں معلوم کہ کس چیز پرقسم کھائی۔ پھر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم) نے سر مبارک اُٹھالیا اور چہرہ اقدس میں خوشی نمایاں تھی تو ہمیں یہ بات سُرخ اونٹوں سے زیادہ پیاری تھی اور فرمایا: ''جو بندہ پانچوں نمازیں پڑھتا ہے اور رمضان کا روزہ رکھتا ہے اور زکاۃ دیتا ہے اور ساتوں کبیرہ گناہوں سے بچتاہے اُس کے لیے جنت کے د روازے کھول دیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ داخل ہو۔'' (2) 

    حدیث ۲۲: امام احمد نے بروایت ثقات انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم فرماتے ہیں: ''اپنے مال کی زکاۃ نکال، کہ وہ پاک کرنے والی ہے تجھے پاک کر دے گی اور رشتہ داروں سے سلوک کر اور مسکین اور پڑوسی اور سائل کا حق پہچان۔'' (3) 

    حدیث ۲۳: طبرانی نے اوسط و کبیر میں ابو الدرداء رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم) نے فرمایا: ''زکاۃ اسلام کا پُل ہے۔'' (4) 

    حدیث ۲۴: طبرانی نے اوسط میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم) فرماتے ہیں: ''جو میرے لیے چھ چیزوں کی کفالت کرے، میں اُس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔'' میں نے عرض کی، وہ کیا ہیں یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم) فرمایا: ''نمازو زکاۃ و امانت و شرمگاہ و شکم و زبان۔'' (5) 

    حدیث ۲۵: بزار نے علقمہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ  وسلم) نے فرمایا: ''تمھارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ اپنے اموال کی زکاۃ ادا کرو۔'' (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري ''، کتاب الزکاۃ، باب لاتقبل صدقۃ من غلول، الحدیث: ۱۴۱۰، ج۱، ص۴۷۶. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائی''، کتاب الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، الحدیث: ۲۴۳۵، ص۳۹۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمدبن حنبل، مسندانس بن مالک، الحدیث: ۱۲۳۹۷، ج۴، ص۲۷۳. 

4۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط''، باب المیم، الحدیث: ۸۹۳۷، ج۶، ص۳۲۸. 

5۔۔۔۔۔۔ ''المعجم الأوسط''، باب الفاء، الحدیث: ۴۹۲۵، ج۳، ص۳۹۶. 

6۔۔۔۔۔۔ ''مجمع الزوائد''، کتاب الزکاۃ، باب فرض الزکاۃ، الحدیث: ۴۳۲۶، ج۳، ص۱۹۸.
Flag Counter