یہ معنی بیان کیے کہ زکاۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اُس حلال کو ہلاک کر دے گا اور امام احمد نے فرمایا کہ معنے یہ ہیں کہ مالدار شخص مالِ زکاۃ لے تویہ مالِ زکاۃ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکاۃ تو فقیروں کے لیے ہے اور دونوں معنے صحیح ہیں۔ (1)
حدیث ۹: طبرانی نے اوسط میں بُریدہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''جو قوم زکاۃ نہ دے گی، اﷲ تعالیٰ اسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔'' (2)
حدیث ۱۰: طبرانی نے اوسط میں فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فرماتے ہیں: ''خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے، وہ زکاۃ نہ دینے سے تلف ہوتا ہے۔'' (3)
حدیث ۱۱: صحیحین میں احنف بن قیس سے مروی، سیدنا ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ''اُن کے سرپستان پر جہنم کا گرم پتھر رکھیں گے کہ سینہ توڑ کرشانہ سے نکل جائے گا اور شانہ کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینہ سے نکلے گا۔'' (4) اور صحیح مسلم شریف میں یہ بھی ہے کہ میں نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا: کہ ''پیٹھ توڑ کر کروٹ سے نکلے گا اور گدی توڑ کر پیشانی سے۔'' (5)
حدیث ۱۲: طبرانی امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر مال داروں کے ہاتھوں، سُن لو! ایسے تونگروں سے اﷲ تعالیٰ سخت حساب لے گا اور انھیں دردناک عذاب دے گا۔'' (6)
حدیث ۱۳: نیز طبرانی انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''قیامت کے دن تونگروں کے لیے محتاجوں کے ہاتھوں سے خرابی ہے۔'' محتاج عرض کریں گے، ہمارے حقوق جو تُو نے اُن پر فرض کیے تھے، انہوں نے ظلماً نہ دیے، اﷲ عزوجل فرمائے گا: ''مجھے قسم ہے اپنی عزّت و جلال کی کہ تمہیں اپنا قُرب عطا کروں گا اور انھیں دُور رکھوں گا۔'' (7)