کہہ لیا، اُس نے اپنی جان اور مال بچا لیا، مگر حق اسلام میں اور اس کا حساب اﷲ (عزوجل) کے ذمہ ہے (یعنی یہ لوگ تو
کہنے والے ہیں، ان پر کیسے جہاد کیا جائے گا) صدیق اکبر نے فرمایا: خدا کی قسم! میں اس سے جہاد کروں گا، جو نماز و زکاۃ میں تفریق کرے (1) (کہ نماز کو فرض مانے اور زکاۃ کی فرضیت سے انکار کرے)، زکاۃ حق المال ہے، خدا کی قسم! بکری کا بچہ جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس حاضر کیا کرتے تھے، اگر مجھے دینے سے انکار کریں گے تو اس پر اُن سے جہاد کروں گا، فاروقِ اعظم فرماتے ہیں: واﷲ میں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے صدیق کا سینہ کھول دیا ہے۔ اُس وقت میں نے بھی پہچان لیا کہ وہی حق ہے۔ (2)
حدیث ۷: ابو داود نے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی، کہ جب یہ آیہ کریمہ
( وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ ) (3)
نازل ہوئی، مسلمانوں پر شاق ہوئی (سمجھے کہ چاندی سونا جمع کرنا حرام ہے تو بہت دقّت کا سامنا ہوگا)، فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں تم سے مصیبت دُور کر دوں گا۔ حاضر خدمت اقدس ہوئے عرض کی، یا رسول اﷲ (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) یہ آیت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے اصحاب پر گراں معلوم ہوئی فرمایا: کہ ''اﷲ تعالیٰ نے زکاۃ تو اس لیے فرض کی کہ تمھارے باقی مال کو پاک کر دے اور مواریث اس لیے فرض کیے کہ تمھارے بعد والوں کے لیے ہو (یعنی مطلقاً مال جمع کرنا حرام ہوتا تو زکاۃ سے مال کی طہارت نہ ہوتی، بلکہ زکاۃ کس چیز پر واجب ہوتی اور میراث کا ہے میں جاری ہوتی، بلکہ جمع کرنا حرام وہ ہے کہ زکاۃ نہ دے) اس پر فاروقِ اعظم نے تکبیر کہی۔ (4)
حدیث ۸: بخاری اپنی تاریخ میں اور امام شافعی و بزار و بیہقی اُم المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''زکاۃ کسی مال میں نہ ملے گی، مگر اُسے ہلاک کر دے گی۔'' (5) بعض ائمہ نے اس حدیث کے
1۔۔۔۔۔۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نری کلمہ گوئی اسلام کیلئے کافی نہیں، جب تک تمام ضروریات دین کا اقرار نہ کرے اور امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بحث کرنا اس وجہ سے تھا کہ ان کے علم میں پہلے یہ بات نہ تھی، کہ وہ فرضیت کے منکر ہیں یہ خیال تھا کہ زکاۃ دیتے نہیں اس کی وجہ سے گنہگار ہوئے، کا فر تو نہ ہوئے کہ ان پر جہاد قائم کیا جائے، مگر جب معلوم ہوگیا تو فرماتے ہیں میں نے پہچان لیا کہ وہی حق
ہے، جو صدیق نے سمجھا اور کیا۔ ۱۲ منہ
2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الاعتصام، باب الإقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۷۲۸۴، ج۴ ص۵۰۰.
3۔۔۔۔۔۔ پ۱۰، التوبۃ: ۳۴.
4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبی داود''، کتاب الزکاۃ، باب في حقوق المال، الحدیث: ۱۶۶۴، ج۲، ص۱۷۶.
5۔۔۔۔۔۔ ''شعب الإیمان''، باب في الزکاۃ، فصل في الاستعفاف عن المسألۃ، الحدیث: ۳۵۲۲، ج۳، ص۲۷۳.