Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
869 - 1029
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ ) (1) الآیہ۔
اسی کے مثل ترمذی و نسائی و ابن ماجہ نے عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ 

    حدیث ۳: احمد کی روایت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے یوں ہے، ''جس مال کی زکاۃ نہیں دی گئی، قیامت کے دن وہ گنجا سانپ (2) ہوگا، مالک کو دوڑائے گا، وہ بھاگے گا یہاں تک کہ اپنی انگلیاں اُس کے مونھ میں ڈال دے گا۔'' (3) 

    حدیث ۴،۵: صحیح مسلم شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم : ''جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے تو جب قیامت کا دن ہوگا اس کے لیے آگ کے پتّر بنائے جائیں گے اون پر جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی اور اُن سے اُس کی کروٹ اور پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی، جب ٹھنڈے ہونے پر آئیں گے پھر ویسے ہی کر دیے جائیں گے۔ یہ معاملہ اس دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے، اب وہ اپنی راہ دیکھے گا خواہ جنت کی طرف جائے یا جہنم کی طرف اور اونٹ کے بارے میں فرمایا: جو اس کا حق نہیں ادا کرتا، قیامت کے دن ہموار میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہ اونٹ سب کے سب نہایت فربہ ہو کر آئیں گے، پاؤں سے اُسے روندیں گے اور مونھ سے کاٹیں گے، جب ان کی پچھلی جماعت گزر جائے گی، پہلی لوٹے گی اور گائے اور بکریوں کے بارے میں فرمایا: کہ اس شخص کو ہموار میدان میں لٹا ئینگے اور وہ سب کی سب آئیں گی، نہ ان میں مُڑے ہوئے سینگ کی کوئی ہوگی، نہ بے سینگ کی، نہ ٹوٹے سینگ کی اورسینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی (4) اور اسی کے مثل صحیحین میں اونٹ اور گائے اور بکریوں کی زکاۃ نہ دینے میں ابوذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی۔ (5) 

    حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد جب صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوئے، اس وقت اعراب میں کچھ لوگ کافر ہوگئے (کہ زکاۃ کی فرضیت سے انکار کر بیٹھے)، صدیق اکبر نے اُن پر جہاد کا حکم دیا، امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا اُن سے آپ کیونکر قتال کرتے ہیں کہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب إثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۱۴۰۳، ج۱، ص۴۷۴. 

پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۱۸۰. 

2 ۔۔۔۔۔۔ سانپ جب ہزار برس کا ہوتا ہے تو اس کے سر پر بال نکلتے ہیں اور جب دوہزاربرس کا ہوتا ہے، وہ بال گر جاتے ہیں۔یہ معنی ہیں گنجے 

سانپ کے کہ اتنا پرانا ہوگا۔ ۱۲ منہ 

3۔۔۔۔۔۔ ''المسند'' للإمام أحمدبن حنبل، مسندأبی ہریرۃ، الحدیث: ۱۰۸۵۷، ج۳، ص۶۲۶. 

یہ حدیث طویل ہے مختصراً ذکر کی گئی۔ ۱۲ منہ 

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الزکاۃ، باب إثم مانع الزکاۃ، الحدیث: ۹۸۷، ص۴۹۱. 

5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ البقر، الحدیث: ۱۴۶۰، ج۱، ص۴۹۲.
Flag Counter