Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پنجم (5)
868 - 1029
    اور فرماتا ہے:
    (وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ  ) (1)
    جو لوگ بخل کرتے ہیں اُس کے ساتھ جو اﷲ (عزوجل) نے اپنے فضل سے اُنھیں دیا۔ وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ اُن کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ اُن کے لیے بُرا ہے۔ اس چیز کا قیامت کے دن اُن کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا جس کے ساتھ بخل کیا۔

    اور فرماتا ہے۔
    ( وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِجَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوۡبُہُمْ وَظُہُوۡرُہُمْ ؕ ہٰذَا مَاکَنَزْتُمْ لِاَنۡفُسِکُمْ فَذُوۡقُوۡا مَاکُنۡتُمْ تَکْنِزُوۡنَ ﴿۳۵﴾ ) (2)
    جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے اور اُسے اﷲ (عزوجل) کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں، انھیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو، جس دن آتش جہنم میں وہ تپائے جائیں گے اور اُن سے اُن کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں داغی جائیں گی (3) (اور اُن سے کہاجائے گا) یہ وہ ہے جو تم نے اپنے نفس کے لیے جمع کیا تھا تو اب چکھو جو جمع کرتے تھے۔

    نیز زکاۃ کے بیان میں بکثرت آیات وارد ہوئیں جن سے اُس کا مہتم بالشّان ہونا ظاہر۔ 

    احادیث اس کے بیان میں بہت ہیں بعض ان میں سے یہ ہیں: 

    حدیث ۱،۲: صحیح بخاری شریف میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جس کو اﷲ تعالیٰ مال دے اور وہ اُس کی زکاۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا، جس کے سر پر دو چتّیاں ہوں گی۔ وہ سانپ اُس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر اس کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔'' اس کے بعد حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی
(وَلَا یَحْسَبَنَّ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۱۸۰. 

2۔۔۔۔۔۔ پ۱۰، التوبۃ: ۳۴ ۔ ۳۵. 

3۔۔۔۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کوئی روپیہ دوسرے روپیہ پر نہ رکھا جائے گا۔ نہ کوئی اشرفی دوسری اشرفی پر بلکہ زکاۃ نہ دینے والے کا جسم اتنا بڑا کر دیا جائے گا کہ لاکھوں کروڑوں جمع کیے ہوں تو ہر روپیہ جدا داغ دے گا۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر ۱۲ منہ

''الترغیب و الترہیب''، کتاب الصدقات، الترہیب من منع الزکاۃ، الحدیث: ۲۲، ج۱، ص۳۱۰.
Flag Counter