مسئلہ ۴۰: کسی دن یا کسی مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو اس سے پیشتر بھی اس منت کو پورا کر سکتا ہے یعنی جبکہ معلّق نہ ہو اور مسجد حرم شریف میں اعتکاف کرنے کی منّت مانی تو دوسری مسجد میں بھی کر سکتا ہے۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: ماہِ گزشتہ کے اعتکاف کی منت مانی تو صحیح نہیں۔ منت مان کر معاذ اﷲ مرتد ہوگیا تو منّت ساقط ہوگئی پھر مسلمان ہوا تو اُس کی قضا واجب نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی اور مر گیا تو ہر روز کے بدلے بقدر صدقہ فطر کے مسکین کو دیا جائے یعنی جبکہ وصیّت کی ہو اور اس پر واجب ہے کہ وصیّت کر جائے اور وصیّت نہ کی، مگر وارثوں نے اپنی طرف سے فدیہ دے دیا، جب بھی جائز ہے۔ مریض نے منت مانی اور مر گیا تو اگر ایک دن کو بھی اچھا ہوگیا تھا تو ہر روز کے بدلے صدقہ فطر کی قدر دیا جائے اور ایک دن کو بھی اچھا نہ ہوا تو کچھ واجب نہیں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ بات اس کے اختیار میں ہے کہ جس مہینے کا چاہے اعتکاف کرے، مگر لگاتار اعتکاف میں بیٹھنا واجب ہے اور اگر یہ کہے کہ میری مراد ایک مہینے کے صرف دن تھے، راتیں نہیں تو یہ قول نہیں مانا جائے گا۔ دن اور رات دونوں کا اعتکاف واجب ہے اور تیس دن کہا تھا جب بھی یہی حکم ہے۔ ہاں اگر منت مانتے وقت یہ کہا تھا کہ ایک مہینے کے دنوں کا اعتکاف ہے، راتوں کا نہیں تو صرف دنوں کا اعتکاف واجب ہوا اور اب یہ بھی اختیار ہے کہ متفرق طور پر تیس دن کااعتکاف کرلے اور اگر یہ کہا تھا کہ ایک مہینے کی راتوں کا اعتکاف ہے دِنوں کا نہیں تو کچھ نہیں۔ (4) (جوہرہ، درمختار)
مسئلہ ۴۴: اعتکاف نفل اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں ،کہ وہیں تک ختم ہوگیا اور اعتکاف مسنون کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لیے بیٹھا تھا، اسے توڑا تو جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا کرے، پورے دس دنوں کی قضا واجب نہیں اورمنّت کا اعتکاف توڑا تو اگر کسی معّین مہینے کی منت تھی تو باقی دنوں کی قضاکرے، ورنہ اگرعلی الاتصال واجب ہوا تھا تو سِرے سے اعتکاف کرے اور علی الاتصال واجب نہ تھا تو باقی کا اعتکاف کرے۔ (5) (ردالمحتار)