| بہارِشریعت حصّہ پنجم (5) |
مسئلہ ۴۵: اعتکاف کی قضا صرف قصداً توڑنے سے نہیں بلکہ اگر عذر کی وجہ سے چھوڑا مثلاً بیمار ہوگیا یا بلا اختیار چھوٹا مثلاً عورت کو حیض یا نفاس آیا یا جنون و بے ہوشی طویل طاری ہوئی، ان میں بھی قضا واجب ہے اور ان میں اگر بعض فوت ہو تو کُل کی قضا کی حاجت نہیں، بلکہ بعض کی قضا کر دے اور کُل فوت ہوا تو کُل کی قضا ہے اورمنّت میں علی الاتصال واجب ہوا تھا اور تو علی الاتصال (1) کُل کی قضا ہے۔ (2) (ردالمحتار)
وَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی اٰلائِہٖ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی اَفْضَلِ اَنْبِیَائِـہٖ وَعَلیٰ اٰلِـہٖ وَصَحْبِہٖ وَاَوْلِیَائِـہٖ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ یٰاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ؕ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ یعنی مسلسل بلا ناغہ۔ 2۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۵۰۳.