مسئلہ ۱۲: نفلی روزہ رکھا تھا اور اُس دن کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں کہ اعتکاف واجب کے لیے نفلی روزہ کافی نہیں اور یہ روزہ واجب ہو نہیں سکتا۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ منت رمضان میں پوری نہیں کر سکتا بلکہ خاص اُس اعتکاف کے لیے روزے رکھنے ہوں گے۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: عورت نے اعتکاف کی منت مانی تو شوہر منت پوری کرنے سے روک سکتا ہے اور اب بائن ہونے یا موتِ شوہر کے بعد منت پوری کرے۔ یوہیں لونڈی غلام کو ان کا مالک منع کر سکتا ہے، یہ آزاد ہونے کے بعد پوری کریں۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: شوہر نے عورت کو اعتکاف کی اجازت دے دی اب روکنا چاہے تو نہیں روک سکتا اور مولیٰ نے باندی غلام کو اجازت دیدی جب بھی روک سکتا ہے اگرچہ اب روکے گا تو گنہگار ہوگا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: شوہر نے ایک مہینے کے اعتکاف کی اجازت دی اور عورت لگاتار پورے مہینے کا اعتکاف کرنا چاہتی ہے تو شوہر کو اختیار ہے کہ یہ حکم دے کہ تھوڑے تھوڑے کر کے ایک مہینہ پورا کر لے اور اگر کسی خاص مہینے کی اجازت دی ہے تو اب اختیار نہ رہا۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اعتکاف واجب میں معتکف کو مسجد سے بغیر عذر نکلنا حرام ہے، اگر نکلاتو اعتکاف جاتا رہا اگرچہ بھول کر نکلا ہو۔ یوہیں اعتکافِ سنت بھی بغیر عذر نکلنے سے جاتا رہتا ہے۔ یوہیں عورت نے مسجد بیت میں اعتکاف واجب یامسنون کیا تو بغیر عذر وہاں سے نہیں نکل سکتی، اگر وہاں سے نکلی اگرچہ گھر ہی میں رہی اعتکاف جاتا رہا۔ (6) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۸: معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں۔
ایک حاجت طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہو سکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی