کوئی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا ناجائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی چھینٹ مسجدمیں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔
دوم حاجت شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: قضائے حاجت کو گیا تو طہارت کرکے فوراً چلا آئے ٹھہرنے کی اجازت نہیں اور اگر معتکف کا مکان مسجد سے دُور ہے اور اس کے دوست کا مکان قریب تو یہ ضرور نہیں کہ دوست کے یہاں قضائے حاجت کوجائے، بلکہ اپنے مکان پر بھی جا سکتا ہے اور اگر اس کے خود دو مکان ہیں ایک نزدیک دوسرا دُور تو نزدیک والے مکان میں جائے کہ بعض مشایخ فرماتے ہیں دُور والے میں جائے گا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا۔ (2) (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: جمعہ اگر قریب کی مسجد میں ہوتا ہے تو آفتاب ڈھلنے کے بعد اس وقت جائے کہ اذان ثانی سے پیشتر سنتیں پڑھ لے اور اگر دُور ہو تو آفتاب ڈھلنے سے پہلے بھی جا سکتا ہے، مگر اس انداز سے جائے کہ اذان ثانی کے پہلے سنتیں پڑھ سکے زیادہ پہلے نہ جائے۔
اور یہ بات اس کی رائے پر ہے جب اس کی سمجھ میں آجائے کہ پہنچنے کے بعد صرف سنتوں کاوقت باقی رہے گا، چلا جائے اور فرض جمعہ کے بعد چار یا چھ رکعتیں سنتوں کی پڑھ کر چلا آئے اور ظہر احتیاطی پڑھنی ہے تو اعتکاف والی مسجد میں آکر پڑھے اور اگر پچھلی سنتوں کے بعد واپس نہ آیا، وہیں جامع مسجد میں ٹھہرا رہا، اگرچہ ایک دن رات تک وہیں رہ گیا یا اپنا اعتکاف وہیں پورا کیا تو بھی وہ اعتکاف فاسد نہ ہوا مگر یہ مکروہ ہے اور یہ سب اس صورت میں ہے کہ جس مسجد میں اعتکاف کیا، وہاں جمعہ نہ ہوتا ہو۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: اگر ایسی مسجد میں اعتکاف کیا جہاں جماعت نہیں ہوتی تو جماعت کے لیے نکلنے کی اجازت ہے۔ (4) (ردالمحتار)