ہے کہ فقط نیّت کر لینے سے اعتکاف کا ثواب ملتا ہے، اسے تو نہ کھونا چاہیے۔ مسجد میں اگر دروازہ پر یہ عبارت لکھ دی جائے کہ اعتکاف کی نیّت کر لو، اعتکاف کا ثواب پاؤ گے تو بہتر ہے کہ جو اس سے ناواقف ہیں انھیں معلوم ہو جائے اور جوجانتے ہیں اُن کے لیے یاد دہانی ہو۔
مسئلہ ۹: اعتکافِ سنت یعنی رمضان شریف کی پچھلی دس تاریخوں میں جوکیا جاتا ہے، اُس میں روزہ شرط ہے، لہٰذا اگر کسی مریض یا مسافر نے اعتکاف تو کیا مگر روزہ نہ رکھا تو سنت ادا نہ ہوئی بلکہ نفل ہوا۔ (1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: منت کے اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے، یہاں تک کہ اگر ایک مہینے کے اعتکاف کی منت مانی اور یہ کہا کہ روزہ نہ رکھے گا جب بھی روزہ رکھنا واجب ہے اور اگر رات کے اعتکاف کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں کہ رات میں روزہ نہیں ہوسکتا اور اگر یوں کہا کہ ایک دن رات کا مجھ پر اعتکاف ہے تو یہ منت صحیح ہے اور اگر آج کے اعتکاف کی منت مانی اور کھانا کھا چکا ہے تو منت صحیح نہیں۔ (2) (درمختار، عالمگیری) یوہیں اگر ضحوہ کبریٰ کے بعد منت مانی اور روزہ نہ تھا تو یہ منت صحیح نہیں کہ اب روزہ کی نیّت نہیں کر سکتا، بلکہ اگر روزہ کی نیّت کر سکتا ہو مثلاً ضحوہ کبریٰ سے قبل جب بھی منت صحیح نہیں کہ یہ روزہ نفل ہوگا اور اس اعتکاف میں روزہ واجب درکار۔
مسئلہ ۱۱: یہ ضرور نہیں کہ خاص اعتکاف ہی کے لیے روزہ ہو بلکہ روزہ ہونا ضروری ہے، اگرچہ اعتکاف کی نیّت سے نہ ہو مثلاً اس رمضان کے اعتکاف کی منت مانی تو وہی رمضان کے روزے اس اعتکاف کے لیے کافی ہیں اور اگر رمضان کے روزے تو رکھے مگر اعتکاف نہ کیا تو اب ایک ماہ کے روزے رکھے اور اس کے ساتھ اعتکاف کرے اور اگر یوں نہ کیا یعنی روزے رکھ کر اعتکاف نہ کیا اور دوسرا رمضان آگیا تو اس رمضان کے روزے اس اعتکاف کے لیے کافی نہیں۔
یوہیں اگر کسی اور واجب کے روزے رکھے تو یہ اعتکاف ان روزوں کے ساتھ بھی ادا نہیں ہوسکتا، بلکہ اب اُس کے لیے خاص اعتکاف کی نیّت سے روزے رکھنا ضروری ہے اور اگر اس صورت میں کہ رمضان کے اعتکاف کی منت مانی تھی نہ روزے رکھے، نہ اعتکاف کیا اب ان روزوں کی قضا رکھ رہا ہے تو ان قضا روزوں کے ساتھ وہ اعتکاف کی منت بھی پوری کرسکتا ہے۔ (3) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)