پھر اُس میں جہاں بڑی جماعت ہوتی ہو۔ (1) (جوہرہ)
مسئلہ ۴: عورت کومسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کرلے۔ بلکہ مرد کو بھی چاہیے کہ نوافل کے لیے گھر میں کوئی جگہ مقرر کر لے کہ نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: اگرعورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت یعنی جب کہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۶: خنثیٰ (4) مسجد بیت میں اعتکاف نہیں کر سکتا۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۷: اعتکاف تین قسم ہے۔
(۱) واجب، کہ اعتکاف کی منّت مانی یعنی زبان سے کہا، محض دل میں ارادہ سے واجب نہ ہوگا۔
(۲) سنت مؤکدہ، کہ رمضان کے پورے عشرہ اخیرہ یعنی آخر کے دس دن میں اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ہو اور تیسویں کے غروب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب نیّت اعتکاف کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی اور یہ اعتکاف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کریں تو سب سے مطالبہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کر لیا تو سب بری الذمہ۔
(۳) ان دو ۲ کے علاوہ اور جو اعتکاف کیا جائے وہ مستحب و سنت غیر مؤکدہ ہے۔ (6) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۸: اعتکافِ مستحب کے لیے نہ روزہ شرط ہے، نہ اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر، بلکہ جب مسجد میں اعتکاف کی نیّت کی، جب تک مسجد میں ہے معتکف ہے، چلا آیا اعتکاف ختم ہوگیا۔ (7) (عالمگیری وغیرہ) یہ بغیر محنت ثواب مل رہا