عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے۔ (1)
حدیث ۲: ابو داود انھیں سے راوی، کہتی ہیں: معتکف پر سنت (یعنی حدیث سے ثابت) یہ ہے کہ نہ مریض کی عیادت کوجائے نہ جنازہ میں حاضر ہو، نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور نہ کسی حاجت کے لیے جائے، مگر اس حاجت کے لیے جا سکتا ہے جو ضروری ہے اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں اور اعتکاف جماعت والی مسجد میں کرے۔ (2)
حدیث ۳: ابن ماجہ ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا: ''وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیوں سے اُسے اُس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اُس نے تمام نیکیاں کیں۔'' (3)
حدیث ۴: بیہقی امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس نے رمضان میں دس ۱۰ دنوں کا اعتکاف کرلیا تو ایساہے جیسے دو ۲ حج اور دو ۲ عمرے کیے۔'' (4)
مسئلہ ۱: مسجد میں اﷲ (عزوجل) کے لیے نیّت کے ساتھ ٹھہرنا اعتکاف ہے اور اس کے لیے مسلمان، عاقل اور جنابت و حیض و نفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ بلوغ شرط نہیں بلکہ نابالغ جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیّت اعتکاف مسجد میں ٹھہرے تو یہ اعتکاف صحیح ہے، آزاد ہونا بھی شرط نہیں لہٰذا غلام بھی اعتکاف کر سکتا ہے، مگر اسے مولیٰ سے اجازت لینی ہوگی اور مولیٰ کو بہرحال منع کرنے کا حق حاصل ہے۔ (5) (عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مسجد جامع ہونا اعتکاف کے لیے شرط نہیں بلکہ مسجد جماعت میں بھی ہوسکتا ہے۔ مسجد جماعت وہ ہے جس میں امام و مؤذن مقرر ہوں، اگرچہ اس میں پنجگانہ جماعت نہ ہوتی ہو اور آسانی اس میں ہے کہ مطلقاً ہر مسجد میں اعتکاف صحیح ہے اگرچہ وہ مسجد جماعت نہ ہو، خصوصاً اس زمانہ میں کہ بہتیری مسجدیں ایسی ہیں جن میں نہ امام ہیں نہ مؤذن۔ (6) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳: سب سے افضل مسجد حرم شریف میں اعتکاف ہے پھر مسجد نبوی میں علی صاحبہا الصلاۃ والتسلیم پھر مسجد اقصیٰ (7) میں