مسئلہ ۱۴: مریض نے ایک ماہ روزہ رکھنے کی منت مانی اور صحت نہ ہوئی مر گیا تو اُس پر کچھ نہیں اور اگر ایک دن کے لیے بھی اچھا ہوگیا تھا اور روزہ نہ رکھا تو پورے مہینے بھر کے فدیہ کی وصیّت کرنا واجب ہے اور اس دن روزہ رکھ لیا جب بھی باقی دنوں کے لیے وصیّت چاہیے۔ یوہیں اگر تندرست نے منّت مانی اور مہینہ پورا ہونے سے پہلے مر گیا تو اس پر بھی وصیّت کرنا واجب ہے اور اگر رات میں منّت مانی تھی اور رات ہی میں مر گیا جب بھی وصیّت کر دینی چاہیے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۵: یہ منّت مانی کہ جس دن فلاں شخص آئے گا، اس دن اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھ پر روزہ رکھنا واجب ہے تو اگر ضحوہ کبریٰ سے پیشتر آیا اور اُس نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے تو روزہ رکھ لے اور اگر رات میں آیا تو کچھ نہیں۔ یوہیں اگر زوال کے بعد آیا یا کھانے کے بعد آیا یا منت ماننے والی عورت تھی اور اُس دن اُسے حیض تھا تو ان صورتوں میں بھی کچھ نہیں اور اگر یہ کہا تھا کہ جس دن فلاں آئے گا، اُس دن کا اﷲ (عزوجل) کے لیے مجھے ہمیشہ روزہ رکھنا ہے اورکھانا کھانے کے بعد آیا تو اُس دن کا روزہ تو نہیں، مگر آئندہ ہر ہفتہ میں اُس دن کاروزہ اُس پر واجب ہوگیا، مثلاً پیر کے دن آیا تو ہر پیر کو روزہ رکھے۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۶: یہ منت مانی کہ جس دن فلاں آئے گا، اُس روز کا روزہ مجھ پر ہمیشہ ہے اور دوسری منت یہ مانی کہ جس دن فلاں کو صحت ہو جائے اس دن کاروزہ مجھ پرہمیشہ ہے۔ اتفاقاً جس دن وہ آیا، اُسی دن وہ اچھا بھی ہوگیا تو ہر ہفتہ میں صرف اُسی ایک دن کا روزہ رکھنا اس پر ہمیشہ واجب ہوا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: آدھے دن کے روزے کی منت مانی تو یہ منت صحیح نہیں۔ (4) (عالمگیری)