مسئلہ ۸: منت دو قسم ہے۔
ایک معلّق کہ میرافلاں کام ہو جائے گا یا فلاں شخص سفر سے آجائے تو مجھ پر اﷲ (عزوجل) کے لیے اتنے روزے یا نماز یا صدقہ وغیرہا ہے۔
دوسری غیر معلّق جو کسی چیز کے ہونے، نہ ہونے پر موقوف نہیں بلکہ یہ کہ اﷲ (عزوجل) کے لیے میں اپنے اوپر اتنے روزے یا نماز یا صدقہ وغیرہا واجب کرتا ہوں۔ غیر معلّق میں اگرچہ وقت یا جگہ وغیرہ معیّن کرے، مگر منت پوری کرنے کے لیے یہ ضرور نہیں کہ اس سے پیشتر یا اس کے غیر میں نہ ہوسکے، بلکہ اگر اس وقت سے پیشتر روزے رکھ لیے یا نماز پڑھ لی وغیرہ وغیرہ تو منت پوری ہوگئی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۹: اس رجب کے روزے کی منت مانی اور جمادی الآخرہ میں روزے رکھ لیے اور یہ مہینہ انتیس کا ہوا، اگر یہ رجب بھی انتیس کا ہو تو پوری ہوگئی ایک اور روزہ کی ضرورت نہیں اور تیس کا ہوا تو ایک روزہ اور رکھے۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: اس رجب کے روزہ کی منت مانی اور رجب میں بیمار رہا تو دوسرے دنوں میں ان کی قضا رکھے اور قضا میں اختیار ہے کہ لگاتار روزے ہوں یا ناغہ دے کر۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: معلّق میں شرط پائی جانے سے پہلے منت پوری نہیں کر سکتا، اگر پہلے ہی روزے رکھ لیے بعد میں شرط پائی گئی تو اب پھر رکھنا واجب ہوگا، پہلے کے روزے اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: ایک دن کے روزے کی منت مانی تو اختیار ہے کہ ایّام منہیّہ کے سوا جس دن چاہے روزہ رکھ لے۔ یوہیں دو دن، تین دن میں بھی اختیار ہے، البتہ اگر ان میں پے درپے کی نیّت کی تو پے درپے رکھنا واجب ہوگا، ورنہ اختیار ہے کہ ایک ساتھ رکھے یا ناغہ دے کر اور متفرق کی نیت کی اور پے درپے رکھ لیے جب بھی جائز ہے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک ساتھ دس ۱۰ روزوں کی منّت مانی اور پندرہ روزے رکھے، بیچ میں ایک دن افطار کیا اور یہ یاد نہیں کہ کون سے دن روزہ نہ تھا تو لگاتار پانچ دن اور رکھ لے۔ (6) (عالمگیری)