مسئلہ ۵: اس مہینے کے روزے کی منت مانی اور اس میں ایّام منہیّہ ہیں تو اُن میں روزے نہ رکھے، بلکہ اُن کے بدلے کے بعد میں رکھے اور رکھ لیے تو گنہگار ہوا مگر منت پوری ہوگئی اور اس صورت میں پورے ایک مہینے کے روزے واجب نہیں، بلکہ منت ماننے کے وقت سے اُس مہینے میں جتنے دن باقی ہیں اُن دنوں میں روزے واجب ہیں اور اگر وہ مہینہ رمضان کاتھا تو منت ہی نہ ہوئی کہ رمضان کے روزے تو خود ہی فرض ہیں۔ ہاں اگر ماہِ رمضان کے روزوں کی منت مانی اور رمضان آنے سے پہلے انتقال ہوگیا تو ایک ماہ تک مسکین کو کھانا کھلانے کی وصیت واجب ہے۔
اور اگر کسی معیّن مہینے کی منت مانی، مثلاً رجب یا شعبان کی توپورے مہینہ کا روزہ ضرور ہے، و ہ مہینہ اونتیس کا ہو تو اونتیس روزے اور تیس کا ہو تو تیس اور ناغہ نہ کرے پھر اگر کوئی روزہ چھوٹ گیا تو اس کو بعد میں رکھ لے پورے مہینے کے لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ (1) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۶: ایک مہینے کے روزے کی منت مانی تو پورے تیس ۳۰ دن کے روزے واجب ہیں، اگرچہ جس مہینے میں رکھے وہ انتیس ہی کا ہو اور یہ بھی ضرور ہے کہ کوئی روزہ ایّام منہیّہ میں نہ ہو کہ اس صورت میں اگر ایّام منہیّہ میں روزے رکھے تو گنہگار تو ہوا ہی، وہ روزے بھی ناکافی ہیں اور پے درپے کی شرط لگائی یا دل میں نیّت کی تو یہ بھی ضرور ہے کہ ناغہ نہ ہونے پائے اگر ناغہ ہوا، اگرچہ ایّام منہیّہ میں تو اب سے ایک مہینے کے علی الاتصال روزے رکھے یعنی یہ ضرور ہے کہ ان تیس دنوں میں کوئی دن ایسا نہ ہو، جس میں روزہ کی ممانعت ہے اور پے در پے کی نہ شرط لگائی، نہ نیّت میں ہے تو متفرق طور پر تیس روزے رکھ لینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی۔
اور اگرعورت نے ایک ماہ پے در پے روزے رکھنے کی منّت مانی تو اگر ایک مہینہ یا زیادہ طہارت کا زمانہ اُسے ملتا ہے تو ضرور ہے کہ ایسے وقت شروع کرے کہ حیض آنے سے پیشتر تیس دن پورے ہو جائیں، ورنہ حیض آنے کے بعد اب سے تیس پورے کرنے ہوں گے اور اگر مہینہ پورا ہونے سے پہلے اُسے حیض آجایا کرتا ہے تو حیض سے پہلے جتنے روزے رکھ چکی ہے، انھیں حساب کر لے جو باقی رہ گئے، انھیں حیض ختم ہونے کے بعد متصلاً بلاناغہ پورا کرلے۔ (2) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۷: پے در پے روزے کی منت مانی تو ناغہ کرنا جائز نہیں اور متفرق طور پر مثلاً دس ۱۰ روزے کی منت مانی تو لگاتار رکھنا جائز ہے۔ (3) (بحر)