منہیّہ سے پہلے منت مانی اور اگر ایّام منہیّہ گزرنے کے بعد مثلاً ذی الحجہ کی چودھویں شب میں اس سال کے روزے کی منت مانی تو ختم ذی الحجہ تک روزہ رکھنے سے منت پوری ہوگئی کہ یہ سال ختم ذی الحجہ پر ختم ہو جاتا ہے اور رمضان سے پہلے اس سنہ کے روزے کی منت مانی تھی تو رمضان کے بدلے کے روزے اس کے ذمّہ نہیں۔
اور اگر منّت میں پے در پے روزہ کی شرط یا نیّت کی جب بھی جن دنوں میں روزہ کی ممانعت ہے، اُن میں روزہ نہ رکھے۔ مگر بعد میں پے در پے ان دنوں کی قضا رکھے اور اگر ایک دن بھی بے روزہ رہا تو اس دن کے پہلے جتنے روزے رکھے تھے، ان سب کا اعادہ کرے اور اگر ایک سال کے روزے کی منّت کی تو سال بھر روزہ رکھنے کے بعد پینتیس ۳۵ یا چونتیس ۳۴ دن کے اور رکھے یعنی ماہِ رمضان اور پانچ دن ایّام ممنوعہ کے بدلے کے، اگرچہ ان دنوں میں بھی اُس نے روزے رکھے ہوں کہ اس صورت میں یہ ناکافی ہیں۔ البتہ اگر یوں کہا کہ ایک سال کے روزے پے درپے رکھوں گا تو اب ان پینتیس ۳۵ دنوں کے روزوں کی ضرورت نہیں، مگر اس صورت میں اگر پے درپے نہ ہوں گے تو سرے سے پھر رکھنے ہوں گے، مگر ایّام ممنوعہ میں نہ رکھے بلکہ سال پورا ہونے پر پانچ دن علی الاتصال رکھ لے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: منّت کے الفاظ میں یمین (2) کا بھی احتمال ہے، لہٰذا یہاں چھ صورتیں ہوں گی۔
(۱) ان لفظوں سے کچھ نیّت نہ کی نہ منّت کی نہ یمین کی۔
(۲) فقط منت کی نیّت کی یعنی یمین ہونے نہ ہونے کسی کا ارادہ نہ کیا۔
(۳) منت کی نیّت کی اور یہ کہ یمین نہیں۔
(۴) یمین کی نیّت کی اور یہ کہ منّت نہیں۔
(۵) منت اور یمین دونوں کی نیّت کی۔
(۶) فقط یمین کی نیّت کی اور منت ہونے یا نہ ہونے کسی کی نہیں۔
پہلی تین صورتوں میں فقط منت ہے کہ پوری نہ کرے تو قضا دے اورچوتھی صورت میں یمین ہے کہ اگر پوری نہ کی تو کفارہ دینا ہوگا۔ پانچویں اور چھٹی صورتوں میں منت اور یمین دونوں ہیں، پوری نہ کرے تو منّت کی قضا دے اور یمین کا کفارہ۔ (3) (تنویرالابصار)