محارم کے سامنے پیٹ اور پیٹھ کا چھپانا بھی واجب ہے اور غیر محرم کے سامنے اور نماز کے ليے اگرچہ تنہا اندھیری کوٹھڑی میں ہو، تمام بدن سوا پانچ عضو کے جن کا بیان آئے گا چھپانا فرض ہے، بلکہ جوان عورت کو غیر مردوں کے سامنے مونھ کھولنا بھی منع ہے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اتنا باریک کپڑا، جس سے بدن چمکتا ہو، ستر کے ليے کافی نہیں، اس سے نماز پڑھی، تو نہ ہوئی۔ (2) (عالمگیری) یوہیں اگر چادر میں سے عورت کے بالوں کی سیاہی چمکے، نماز نہ ہوگی۔ (رضا) بعض لوگ باریک ساڑیاں اور تہبند باندھ کر نماز پڑھتے ہیں کہ ران چمکتی ہے، ان کی نمازیں نہیں ہوتیں اور ایسا کپڑا پہننا، جس سے ستر عورت نہ ہوسکے، علاوہ نماز کے بھی حرام ہے۔
مسئلہ ۱۷: دبیز کپڑا، جس سے بدن کا رنگ نہ چمکتا ہو، مگربدن سے بالکل ایسا چپکا ہوا ہے کہ دیکھنے سے عضو کی ہيات معلوم ہوتی ہے، ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی، مگر اس عضو کی طرف دوسروں کو نگاہ کرنا جائز نہیں۔ (3) (ردالمحتار) اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا بھی منع ہے اور عورتوں کے ليے بدرجۂ اَولیٰ ممانعت۔ بعض عورتیں جو بہت چست پاجامے پہنتی ہیں، اس مسئلہ سے سبق لیں۔
مسئلہ ۱۸: نماز میں ستر کے ليے پاک کپڑا ہونا ضرور ہے، یعنی اتنا نجس نہ ہو، جس سے نماز نہ ہوسکے، تو اگر پاک کپڑے پر قدرت ہے اور ناپاک پہن کر نماز پڑھی، نماز نہ ہوئی۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: اس کے علم میں کپڑا ناپاک ہے اور اس میں نماز پڑھی، پھر معلوم ہوا کہ پاک تھا، نماز نہ ہوئی۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: غیر نماز میں نجس کپڑا پہنا تو حرج نہیں، اگرچہ پاک کپڑا موجود ہو اور جو دوسرا نہیں، تو اُسی کو پہننا واجب ہے۔ (6) (در مختار، رد المحتار) یہ اس وقت ہے کہ اس کی نجاست خشک ہو، چھوٹ کر بدن کو نہ لگے، ورنہ پاک کپڑا ہوتے ہوئے ایسا کپڑا پہننا مطلقاً منع ہے کہ بلاوجہ بدن ناپاک کرنا ہے۔ (رضا)